لاہور کے علاقے کاہنہ سے 6 سال قبل لاپتا ہونے والی خاتون فوزیہ بی بی کے کیس میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ خاتون کو جنات نے اغوا کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فوجداری قانون میں ترمیم، خاتون کو اغوا یا بے لباس کرنے والے کو پناہ دینے پر سزائے موت ختم

عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران یہ دعویٰ نہ صرف حیران کن تھا بلکہ عدالتی کارروائی میں غیر معمولی رخ بھی اختیار کر گیا۔

’جنات کو فریق کیوں نہیں بنایا‘، چیف جسٹس عالیہ نیلم کے دلچسپ ریمارکس

لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کے دوران سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کو طلب کر لیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر واقعی خاتون کو جنات لے گئے ہیں تو پھر انہیں بھی کیس میں فریق بنانا چاہیے تھا۔

عدالت نے مزید استفسار کیا کہ لاپتا خاتون کا بیٹا کہاں ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ بچہ نانی کے پاس ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے تبصرہ کیا کہ کیا جنات بچے کو نہیں لے کر گئے؟

مزید پڑھیے: خضدار سے اغوا ہونے والی لڑکی بازیاب، 16 مشتبہ افراد گرفتار

عدالت نے فوزیہ بی بی کی عدم بازیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ پولیس خاتون کو ہر صورت بازیاب کر کے عدالت میں پیش کرے۔

پولیس کی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

دوسری جانب لاہور پولیس نے لاپتا خاتون کی بازیابی کے لیے اعلیٰ سطح کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کو ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر ارکان میں ایس ایس پی عاصم کمبوہ، ایس پی ماڈل ٹاؤن محمد ایاز، ڈی ایس پیز حسنین حیدر، دانش رانجھا، عثمان حیدر، اور انسپکٹر زاہد سلیم شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: مظفرآباد: خواتین سمیت 8 افراد نے نوجوان کو اغوا کیوں کیا؟

ٹیم مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ وہ اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ کسی خاندانی جھگڑے یا مبینہ روحانی معاملات کا شاخسانہ نہیں۔

یاد رہے کہ بچوں کی ماں فوزیہ بی بی 25 مئی 2019 کو لاپتا ہوئی تھیں۔ ان کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں جنات اغوا کر کے لے گئے۔

تھانہ کاہنہ میں مقدمہ نمبر 1572/2019 بجرم 365 (اغوا) درج ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب سے اغوا ہوکر سندھ میں فروخت ہونے والی شریفاں بی بی 44 سال بعد خاندان سے مل گئی

مقدمے میں خاتون کے شوہر اور ساس کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

عدالت کا حکم

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ لاپتا خاتون کو فوری طور پر بازیاب کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنات پر خاتون کے اغوا کا مقدمہ جنات پر مقدمہ جنات خاتون کو لے گئے لاہور کاہنہ لاہور ہائیکورٹ میں جنات کے خلاف مقدمہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جنات پر خاتون کے اغوا کا مقدمہ جنات پر مقدمہ جنات خاتون کو لے گئے لاہور کاہنہ لاہور ہائیکورٹ میں جنات کے خلاف مقدمہ لاہور ہائیکورٹ خاتون کو چیف جسٹس

پڑھیں:

لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل

لاہور ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جس پر انکی 8 بیٹیاں عدالت کے باہر دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔

لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار غلام حسین نے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو انکے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے لہٰذا عدالت انہیں بازیاب کرا کے ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے۔

سماعت کے دوران شبنم بی بی نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کرچکی ہیں اور ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

عدالتی فیصلے کے بعد عدالت کے باہر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹیاں زار و قطار روتی رہیں۔

بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے شوہر غلام حسین کے ہمراہ روانہ ہوگئیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور