انڈے کس نے مارے؟ چاہت فتح علی خان کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
بے سُری گائیکی سے مشہور ہونے والے سوشل میڈیا اسٹار چاہت فتح علی خان نے انڈے مارنے والوں کیخلاف ثبوت پیش کرنے کا دعویٰ کردیا۔
ایک حالیہ ویڈیو میں چاہت فتح علی خان نے انڈے مارنے کے واقعے پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان پر انڈے ایونٹ کروانے والوں نے ہی پڑوائے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ کیفے کی افتتاحی تقریب میں انہیں پرفارمنس کیلئے بُلایا گیا پھر کیفے انتظامیہ نے کہا کہ آپ ہمارے ملازمین کیساتھ کیفے کے باہر جاکر تصاویر بنوا لیں جب وہ باہر گئے تو کیفے کے ہی گارڈ نے ان کی ویڈیو بنائی اور اچانک دو لوگ آکر انڈے پھینکتے ہوئے فرار ہوگئے۔
چاہت فتح علی خان کے مطابق یہ منظر سیکیورٹی گارڈ نے کیمرے میں ریکارڈ کرلیا اور یہ ویڈیو بعد میں کیفے کی جانب سے ہی ان کے سوشل میڈیا پیج پر اپ لوڈ کردی گئی جو وائرل ہوگئی پھر اسے ڈیلیٹ کردیا گیا۔
سوشل میڈیا اسٹار کے مطابق انہوں نے کیفے انتظامیہ سے جب واقعے کے وقت وہ ویڈیو مانگی تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ کچھ ریکارڈ نہیں ہوا ہے جبکہ بعد میں انہوں نے اسے وائرل کیا جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایونٹ انتظامیہ ہی اس واقعے میں ملوث ہے۔
چاہت فتح علی خان نے کہا کہ ان کے پاس اس واقعے سے متعلق دیگر ثبوت موجود ہیں جو وہ پولیس کو فراہم کر کے ایونٹ انتظامیہ کیخلاف قانونی کارروائی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چاہت فتح علی خان انہوں نے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔