پاک سعودی دفاعی معاہدہ خوش آئند، پاکستان باقاعدہ طور پر حرمین شریفین کا محافظ بن گیا، علامہ ریاض نجفی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاون لاہور میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں وفاق المدارس الشیعہ کے صدر کا کہنا تھا کہ بھارت کیخلاف پاکستان اور اسرائیل کیخلاف ایران کی شاندار مزاحمتی فتح مسلمانوں کی عظمت کی علامت ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اندرونی اخراجات کم کرنے کی طرف بھی توجہ دیں۔ اسلام ٹائمز۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظرماڈل ٹاون میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بھارت کیخلاف مملکت خداداد پاکستان کو زبردست فتح عطا فرمائی اور اسی طرح ایران کی اسرائیل کیخلاف شاندار مزاحمتی فتح مسلمانوں کی عظمت کی علامت ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ خوش آئند ہے۔ پاکستان کی افواج، عوام اور حکومت کیلئے بہت اعزاز کی بات ہے، ہم باقاعدہ طور پر حرمین شریفین کے محافظ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ صدی مسلمانوں کی صدی ہے، پاکستان کی عزت و وقار میں شاندار اضافہ ہوا ہے، بس ابھی پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات کی طرف دھیان دینا ہوگا، ہر بندے کا حق ہے کہ تعلیم اور دو وقت کی روٹی اسے ملے۔
حافظ ریاض نجفی کا کہنا تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف کے بارے میں ان کے خیالات اچھے ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے گزارش ہے کہ وہ اندرونی اخراجات کم کرنے اور غریب عوام کی معاشی مشکلات کی طرف بھی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی انبیاء کرام بھیجے وہ اپنے اپنے محدود علاقے اور زمانے تک تھے، واحد ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جو پوری دنیا کیلئے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ بعثت سے لیکر قیامت تک آنے والے سب انسانوں کے وہ نبی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں نے آپ(ص) کو عالمین کیلیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ نے دشمنوں کو بھی معاف کیا، سیرت پیغمبر یہی ہے کہ دشمن سے بھی رواداری سے پیش آیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ محبان اہلبیت پر لازمی ہے کہ وہ اپنا اخلاق بہتر کریں، گالیاں اور لعنتیں چھوڑ کر توجہ اس پر دیں کہ لوگ سمجھیں کہ آپ واقعی اہلبیتؑ کے ماننے والے ہیں۔ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ رسول خدا کے دشمن بھی ان کی تعریف کرتے اور آپ کو تاریخ ساز شخصیت کے طور پر مانتے ہیں۔ 700 سال تک مسلمانوں نے تعلیمات پیغمبر پر عمل کیا تو دنیا بھر میں حکمرانی کی، اس کے بعد آہستہ آہستہ زوال پذیر ہونے لگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔