اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرسنل سیکرٹری انعام اللہ شاہ کی توشہ خانہ کیس سے متعلق گواہی مسترد کردی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا توشہ خانہ کیس میں سارے گواہان بےبنیاد اور بوگس ہیں، دباؤ میں عمران خان کے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ٹو سمیت سارے بےبنیاد کیسز بنائے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا چیف جسٹس کو جب خط لکھا جاتا ہے تو وہ اسے پٹیشن بنا کر سنتے ہیں، ہماری درخواست ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خط کی شنوائی کرکے ریلیف دیا جائے۔

تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کے ذریعے نوجوان نسل کو بااختیار بنایا جائے گا:مجتبیٰ شجاع الرحمان

 یاد رہے کہ گزشتہ روز توشہ خانہ ٹو کیس میں دو اہم گواہان کے بیانات سامنے آئے تھے جس میں دونوں نے بطور وزیراعظم پاکستان عمران خان کو بلغاریہ سے ملنے والے سیٹ کی قیمت کم لگانے کا اعتراف کیا تھا۔

گواہان میں عمران خان کے سابق پرسنل سیکرٹری انعام اللہ شاہ، پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی شامل ہیں، دونوں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدالت کے روبرو بیانات ریکارڈ کراچکے ہیں۔

پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی نے بلغاری جیولری سیٹ کی قیمت کم لگانےکا اعتراف کیا ہے جب کہ انعام اللہ شاہ نے پرائیویٹ اپریزر پر دباؤ ڈال کر جیولری سیٹ کی قدر کم کرنےکا انکشاف کیا۔

اقوام متحدہ تصادم کی بجائے سفارتکاری کا انتخاب کرے: ایرانی وزیر خارجہ کھل کر بول پڑے

صہیب عباسی نے بیان میں کہا کہ بلغاری جیولری سیٹ کی تشخیص 25 مئی 2022کو کابینہ ڈویژن کےسیکشن افسرنے سونپی تھی، انعام اللہ شاہ نےدباؤ ڈال کربلغاری سیٹ کی 50 لاکھ روپے ویلیو لگانے کو کہا، انعام اللہ شاہ نےدھمکی دی اگر ویلیو کم نہ کی تو سرکاری محکموں سے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو گزشتہ روز ایک خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ 772 دنوں سے تنہائی کی قید میں ہوں، میرے سیل کو پنجرہ بنا دیا گیا ہے۔

عمران خان نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ بشریٰ بی بی کی صحت بگڑرہی ہےلیکن ڈاکٹر کو معائنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

سستی بجلی کی فراہمی کیلئے مسابقتی مارکیٹ قائم کرنے کا وقت آگیا، وزیر توانائی اویس لغاری

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: انعام اللہ شاہ عمران خان کے توشہ خانہ سیٹ کی

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری