منی بجٹ کی خبریں بے بنیاد ہیں، چیئرمین ایف بی آر کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد سے جاری خبروں کے مطابق چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے ملک میں منی بجٹ آنے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی تیاری مکمل کرلی ہے تاہم اضافی ٹیکسوں کے لیے منی بجٹ لانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت کی کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے تناظر میں مختلف آپشنز پر غور کیا گیا ہے لیکن ٹیکس ریونیو ہدف میں ردوبدل سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے ٹیکس ہدف میں 300 ارب روپے کمی کی درخواست کرے گا تاکہ موجودہ حالات میں ریونیو کے اہداف حقیقت پسندانہ بن سکیں۔
ذرائع کے مطابق کوشش کی جارہی ہے کہ موجودہ مالی سال کے ٹیکس ہدف کو 14 ہزار ارب روپے سے نیچے لایا جائے۔ تاہم یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی اور ٹیکس اہداف پورے کرنے کے لیے محدود پیمانے پر منی بجٹ لانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مجوزہ منی بجٹ میں لگژری گاڑیوں، سگریٹس، الیکٹرانک سامان اور دیگر غیر ضروری درآمدی اشیاء پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ فیڈرل فلڈ لیوی کے نفاذ پر بھی غور کیا جارہا ہے تاکہ تعمیر نو کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ یوں سرکاری سطح پر منی بجٹ کی تردید کے باوجود امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف بی آر
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔