بھارت میں گول گپوں کا تنازع، پولیس کو بیچ میں کودنا پڑا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
بھارتی ریاست گجرات کے شہر وادودرا میں ایک انوکھا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک خاتون نے ٹھیلے والے سے کم گول گپے ملنے پر بیچ سڑک پر دھرنا دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی بینک میں بیف پارٹی، ملازمین کا انوکھا احتجاج
بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون نے 20 روپے دے کر 6 گول گپے خریدے مگر ٹھیلے والے نے صرف 4 گول گپے دیے۔ یہ دیکھ کر وہ برہم ہوگئیں اور سڑک پر ہی بیٹھ کر احتجاج شروع کر دیا۔
خاتون کا مطالبہ تھا کہ اسے مزید 2 گول گپے دیے جائیں تاکہ سودا پورا ہو، اس دوران راہگیر اور موٹر سائیکل سوار رک گئے اور اس منظر کو اپنے موبائل فونز میں قید کرنے لگے، کچھ ہی دیر میں موقع پر ہجوم جمع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کے زخمی ہونے پر والد کا انوکھا احتجاج، پانی بھرے گڑھے میں بستر لگا کر لیٹ گیا
پولیس بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ خاتون نے روتے ہوئے اہلکاروں کو بتایا کہ وہ صرف اپنا حق چاہتی ہیں اور انصاف کے طور پر 6 گول گپے چاہییں۔
خاتون نے روتے ہوئے کہا کہ اس پانی پورے والے کا ٹھیلہ بند کروائیں، مجھے یہاں اس کا ٹھیلہ نہیں چاہیے۔
پولیس نے خاتون کو سڑک سے ہٹا کر ٹریفک بحال کرایا، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ٹھیلے والے نے آخرکار 2 مزید گول گپے دیے یا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔