data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250920-01-19

 

 

غزہ /تل ابیب /لندن /نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے نتیجے میں مزید 50 فلسطینی شہید ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران غزہ پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں مزید 50 سے زاید فلسطینی شہید ہوگئے۔ بعد ازاں شمالی غزہ میں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی۔ دوسری جانب جنوبی غزہ میں حماس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے4اسرائیلی فوجی ہلاک کردیے۔ اسرائیل اور اردن کے درمیان سرحدی پْل پر فائرنگ کے نتیجے میں بھی  2 اسرائیلی ہلاک ہوگئے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان میں بھی بمباری کی گئی جس دوران6 مقامات پر حزب اللہ کے اسلحے کے ذخائر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسرائیل نے مظالم کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے فضائی بمباری اور زمینی گولہ باری کے بعد غزہ میں بارودی مواد سے لدے روبوٹس کا استعمال شروع کر دیا ہے، 6 روز میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید کر دیے۔برطانوی نشریاتی ادارے کو غزہ شہر کے رہنے والے ایک فرد الغول نے  بتایا کہ اسرائیلی فوج اب پرانی فوجی گاڑیوں کو بڑے موبائل بموں میں تبدیل کر کے انہیں استعمال کر رہی ہے، اسرائیلی فوج ان پرانی فوجی گاڑیوں کو بارود سے بھر کر انہیں ریموٹ کی مدد سے کنٹرول کرتی ہے اور رہائشی علاقوں کے درمیان پہنچا کر دھماکے سے اڑا دیتی ہے۔غزہ کے شہریوں کے مطابق اس طرح کے دھماکے سے علاقے میں موجود بڑی تعداد میں عمارتیں تباہ ہو جاتی ہیں، اس کا اثر فضائی بمباری اور توپ خانے سے بھی زیادہ تباہ کن ہے، غزہ کے لوگ انہیں بارود سے لدے ہوئے روبوٹ کا نام دے رہے ہیں۔ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے 13 اگست سے غزہ سٹی کے اندر زمینی فوجی کارروائی شروع کی جس کے نتیجے میں غزہ کی صحت اور سرکاری حکام کی جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1100 افراد شہید اور 6 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔امریکی صدر کے بعد اسرائیلی وزیرخزانہ نے بھی غزہ کو ہتھیانے کے منصوبے کا اعتراف کرلیا۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹریچ نے کہا کہ غزہ کو منافع بخش رئیل اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے، امریکا سے مذاکرات ہوئے ہیں کہ غزہ کو کیسے آپس میں تقسیم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے جنگ پر بہت رقم خرچ کی، غزہ کی زمین بیچ کر اُسی شرح سے منافع بھی تقسیم ہونا چاہیے، انفرا اسٹرکچرکی تباہی شہرکی تجدید کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے، اب تعمیر شروع ہونی چاہیے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ غزہ کی تقسیم کا بزنس منصوبہ صدر ٹرمپ کی میز پر موجود ہے، امریکا کے صدرڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ غزہ سے انخلا کے بعد امریکا کی زیر ملکیت ساحلی تفریح گاہ بنائی جائے۔لندن میں فلسطینیوں کے لیے فنڈ ریزنگ کنسرٹ کے ذریعے امداد جمع کی گئی۔ ویمبلی ایرینا میں ‘Together for Palestine’ فنڈ ریزنگ کنسرٹ میں باسٹیل، جیمز بلیک، پالوما فیتھ اور فلسطینی فن کاروں سمیت درجنوں گلوکاروں نے پرفارم کیا جب کہ کنسرٹ میں ایک نوجوان گلوکارہ نے خصوصی نغمہ پیش کیا۔اس کے علاوہ  تقریب میں صحافی مہدی حسن اور اقوامِ متحدہ کی نمائندہ برائے فلسطین فرانسسکا البانیز اور دیگر نے خطاب بھی کیا۔مہدی حسن نے عوام سے فلسطین کے لیے آواز بلند کرنے کی اپیل کی جب کہ  برائن اینو (Brian Eno) کی قیادت میں جمیلا جمیل نے  2 ملین ڈالر جمع ہونے کا اعلان بھی کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ برطانوی وزیراعظم کے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔برطانیہ میں سر کیئر اسٹامر کے ہمراہ مشترکا پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ جنگ کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی فوری رہائی چاہتے ہیں لیکن فلسطین کو تسلیم کرنے کے معاملے پر برطانوی وزیراعظم سے اختلاف ہے۔ دوسری جانب برطانوی وزیراعظم اسٹارمر نے غزہ کی صورتحال کو ناقابل برداشت قرار دیا اور امن منصوبے کے تحت فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔   اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے بلکہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔عالمی سطح پر غزہ میں جاری خونریزی اور انسانی المیے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ روزانہ درجنوں نہتے فلسطینی شہید ہو رہے ہیں، معصوم بچے بھوک سے دم توڑ رہے ہیں اور اسپتال بھی اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہیں رہے۔عاصم افتخار نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کو ناقابلِ برداشت اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عالمی ضمیر اب بھی خاموش رہا تو تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ پاکستانی مندوب نے ویٹو کے فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا ضمیر اب جاگنا ہوگا، کیوں کہ ہر لمحہ غزہ میں زندگی اور موت کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ ہفتے عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنے کی اجازت کے حق میں ووٹ دے دیا، کیونکہ امریکا نے انہیں نیویارک کا ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق منظور ہونے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کی ریاست اپنے صدر کا قبل از وقت ریکارڈ شدہ بیان پیش کر سکتی ہے، جو جنرل اسمبلی ہال میں چلایا جائے گا۔اس قرارداد کے حق میں 145 ووٹ ڈالے گئے جبکہ پانچ نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ 6 غیر جانبدار رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج فلسطینی شہید کے نتیجے میں کرتے ہوئے نے کہا کہ کے مطابق کہ غزہ غزہ کی

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم