لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بھارت کی ترقی محض معاشی بڑھوتری نہیں بلکہ تہذیبی بیداری اور یکجہتی کا سفر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھارت کے لسانی تنوع کو محفوظ رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نوجوانوں سے استعماری ذہنیت ترک کرکے مادری زبانوں کو اپنے کی اہمیت پر زور دیا۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) سرینگر میں "بھارتیہ بھاشاؤں میں ایکاتمتا" کے عنوان سے منعقدہ قومی سیمینار کے دوران خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک بھارت کی لسانی تنوع کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ منوج سنہا نے کہا کہ ہمارا فرض ہے کہ ہندی پکھواڑہ مہم کے تحت ہندی زبان کے ساتھ ساتھ دیگر بھارتی زبانوں کو بھی فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور اساتذہ کو چاہیئے کہ وہ اس مشن میں پیش پیش رہیں اور استعماری ورثے سے خود کو آزاد کریں۔

منوج سنہا نے مزید کہا کہ بھارت کی ترقی محض معاشی بڑھوتری نہیں بلکہ تہذیبی بیداری اور یکجہتی کا سفر ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ 2047ء تک، جب بھارت آزادی کے سو سال مکمل کرے، ہم ایک متحد اور ابھرتے ہوئے ملک کے طور پر خود کو ثابت کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت تنوع میں ہے اور نوجوانوں، خاص طور پر این آئی ٹی کے طلبہ کو ملک سازی میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ منوج سنہا نے نوجوانوں سے غلامی کی ہر نشانی کو ختم کرنے اور ایک شاندار قوم کی تعمیر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک وقت میں دنیا کی معیشت اور علم میں راہ نما رہا ہے اور اب ایک بار پھر اپنے کھوئے ہوئے مقام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق آج دنیا کو بھارت سے بڑی توقعات وابستہ ہیں اور یہ نوجوانوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی تحقیق اور اختراعات سے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا کو بھی رہنمائی فراہم کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: منوج سنہا نے کہا کہ بھارت نے کہا کہ بھارت کی

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی