کشمیری نوجوان استعماری ذہنیت ترک کرکے مادری زبان اپنائیں، منوج سنہا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بھارت کی ترقی محض معاشی بڑھوتری نہیں بلکہ تہذیبی بیداری اور یکجہتی کا سفر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھارت کے لسانی تنوع کو محفوظ رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نوجوانوں سے استعماری ذہنیت ترک کرکے مادری زبانوں کو اپنے کی اہمیت پر زور دیا۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) سرینگر میں "بھارتیہ بھاشاؤں میں ایکاتمتا" کے عنوان سے منعقدہ قومی سیمینار کے دوران خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک بھارت کی لسانی تنوع کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ منوج سنہا نے کہا کہ ہمارا فرض ہے کہ ہندی پکھواڑہ مہم کے تحت ہندی زبان کے ساتھ ساتھ دیگر بھارتی زبانوں کو بھی فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور اساتذہ کو چاہیئے کہ وہ اس مشن میں پیش پیش رہیں اور استعماری ورثے سے خود کو آزاد کریں۔
منوج سنہا نے مزید کہا کہ بھارت کی ترقی محض معاشی بڑھوتری نہیں بلکہ تہذیبی بیداری اور یکجہتی کا سفر ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ 2047ء تک، جب بھارت آزادی کے سو سال مکمل کرے، ہم ایک متحد اور ابھرتے ہوئے ملک کے طور پر خود کو ثابت کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت تنوع میں ہے اور نوجوانوں، خاص طور پر این آئی ٹی کے طلبہ کو ملک سازی میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ منوج سنہا نے نوجوانوں سے غلامی کی ہر نشانی کو ختم کرنے اور ایک شاندار قوم کی تعمیر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک وقت میں دنیا کی معیشت اور علم میں راہ نما رہا ہے اور اب ایک بار پھر اپنے کھوئے ہوئے مقام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق آج دنیا کو بھارت سے بڑی توقعات وابستہ ہیں اور یہ نوجوانوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی تحقیق اور اختراعات سے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا کو بھی رہنمائی فراہم کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: منوج سنہا نے کہا کہ بھارت نے کہا کہ بھارت کی
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔