سری لنکا کے خلاف میچ میں راشد خان بولڈ ہونے کے بعد بھی ری ویو مانگنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 کے اہم میچ میں افغانستان کے کپتان راشد خان کی ایک غلط فہمی سوشل میڈیا پر مذاق بن گئی۔
گزشتہ روز سری لنکا کے خلاف ٹورنامنٹ کے اہم میچ میں راشد خان بولڈ ہوئے جس کا انہیں اندازہ نہ ہوا اور امپائر سے ری ویو مانگنے لگے۔
راشد خان کو محسوس ہوا کہ وہ بولڈ نہیں ہوئے بلکہ امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو آؤٹ دیا ہے جس کی وجہ سے وہ فوراً ہی ری ویو مانگنے لگے۔
راشد کے ری ویو مانگنے پر امپائر اور سری لنکن بولر نے انہیں آگاہ کیا کہ وہ بولڈ ہوئے ہیں۔
افغان کپتان کے اس انداز پر سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔
Peecha to dekho Rashid Khan ????????
My man is taking Review after getting Bowled Out ????#AsiaCup2025 pic.
— Over Thinker Lawyer (@Mujha_q_Nakala) September 18, 2025
یاد رہے کہ گزشتہ روز ٹی20 ایشیا کپ کے 11ویں میچ میں سری لنکا نے افغانستان کو 6 وکٹوں سے ہرا دیا تھا جس کے بعد افغانستان کی ٹیم سُپر فور مرحلے سے باہر ہوگئی ہے۔
MOYE MOYE for Rashid Khan! ????#SLvAFG | #AsiaCup2025
pic.twitter.com/SiCgJdSA5z
— Usman (@jamilmusman_) September 18, 2025
Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ری ویو مانگنے میچ میں
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔