Jasarat News:
2026-07-24@09:55:50 GMT

بجٹ خسارے کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250921-03-4

 

ایم ابراہیم خان

بجٹ خسارہ کسی ایک ملک یا چند ممالک کا قصہ نہیں۔ یہ تو عالمگیر حقیقت ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں بجٹ خسارے کا سامنا کرتی رہی ہیں اور اِس کے ساتھ زندہ رہتی ہیں۔ معاشی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ بجٹ خسارے پر قابو پانا اب بظاہر کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہیں رہا۔ معیشتیں پیچیدہ ہوچکی ہیں۔ عالمی معیشت میں نشیب و فراز کے مراحل بہت تیزی سے رونما ہوتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ملک کو کسی بھی وقت انتہائی نوعیت کی صورتِ حال کا سامنا ہوسکتا ہے اور ہوتا ہی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں کو خام قومی پیداوار کے مقابلے میں غیر معمولی نوعیت کے قرضوں کا بھی سامنا ہے۔ رواں سال دنیا بھر کی حکومتوں کے مجموعی قرضے مجموعی عالمی خام پیداوار کے ۹۵ فی صد کے مساوی ہو جائیں گے۔ زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ رجحان محض جاری نہیں ہے بلکہ جاری رہنے کا امکان ہے یعنی وہ وقت زیادہ دور نہیں جب دنیا بھر کے حکومتی قرضے مجموعی قومی پیداوار سے بڑھ جائیں گے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ منزل ۲۰۳۰ تک آسکتی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں کو بجٹ خسارے کا بھی سامنا ہے۔ رواں سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے پانچ اعشاریہ ایک فی صد کے مساوی ہوگا۔ اور یہ تناسب کئی سال برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔

ایک طرف تو حکومتوں کے قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف حقیقی معاشی نمو کی شرح بہت کم ہے۔ افراطِ زر معقول حد تک نہیں یعنی کم ہے اور دنیا بھر میں بچت کا رجحان بھی انتہائی کمزور پڑچکا ہے۔ یہ تمام حقائق اور عوامل یکجا ہوکر معاشی معاملات کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ بجٹ خسارے اور دیگر پیچیدگیوں کا سامنا کرنے کے لیے دنیا بھر کی حکومتیں غیر معمولی نوعیت کے اقدامات کر رہی ہیں۔ ایسے میں یہ بات بہت عجیب سی لگتی ہے کہ یورپی یونین جیسے مضبوط معاشی خطے میں فرانس جیسے بڑے ملک کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پندرہ سال قبل فرانس قرضوں کے معاملے میں اُتنی ہی مشکل صورتِ حال کا سامنا کر رہا تھا جتنی مشکل صورتِ حال جرمنی کو درپیش تھی۔ جرمنی اب بہت حد تک سنبھل چکا ہے مگر فرانس کا یہ حال ہے کہ اُس کے قومی قرضے مجموعی خام قومی پیداوار کے ۱۱۳ فی صد کے مساوی ہیں اور بجٹ خسارے کی سالانہ شرح ۶ فی صد ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں فرانس کی معاشی صورتِ حال اُس سے کہیں زیادہ پریشان کن ہے۔ پنشن کے پوشیدہ بوجھ کو بھی بجٹ کا حصہ بنایا جاتا رہا ہے۔ وزارتیں اِس بوجھ کو عمومی اخراجات میں شمار کرتی ہیں۔

یورپ کے ایک انسٹیٹیوٹ کے مطابق فرانس میں کم و بیش 18 ارب یورو کے مساوی سرکاری تنخواہوں کو پنشن کی مد میں ظاہر کیا گیا۔ یہ سراسر بے دیانتی ہے کیونکہ ایسا کرکے عوام کو دھوکا دیا گیا۔ ایک اور بڑی مصیبت یہ ہے کہ فرانس میں سیاسی استحکام غیر معمولی نوعیت کا ہے اور اب تو خطرناک بھی ثابت ہو رہا ہے۔ صرف بارہ ماہ میں اب تیسری حکومت بھی گِرتی دکھائی دے رہی ہے۔ بجٹ سے متعلق سفارشات کی منظوری کے لیے سیاسی افہام و تفہیم ناگزیر ہے مگر وہی ممکن نہیں ہو پارہی۔ فرانس جیسے بڑے یورپی ملک کے لیے یہ سب کچھ انتہائی پریشان کن اور تشویش میں مبتلا کرنے والا ہے۔ بجٹ خسارے پر قابو پانے میں ناکامی کے نتیجے میں فرانس میں صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی عدم استحکام بھی بڑھ رہا ہے۔ سرکاری بونڈز پر سُود کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اِس معاملے میں جرمنی کو فرانس پر قدرے سبقت حاصل ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ فرانس میں جو معاشی خرابی ہے وہ اپنی پیدا کردہ ہے۔ اِس میں یورپ کے مرکزی بینک کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ یورپی یونین کے تحت کام کرنے والے مرکزی بینک نے پورے خطے کی برآمدات میں اضافے کے لیے سُود کی شرح پر اثر انداز ہوکر ایسے حالات پیدا کیے کہ یورو کی قدر کم رہے تاکہ برآمدات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جاسکے۔ یوروپین سینٹرل بینک کی کارکردگی پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے کیونکہ اِس کے مصنوعی نوعیت کے اقدامات نے کئی ملکوں کے لیے مشکلات کھڑی کی ہیں۔ سُود کی شرح پر اثر انداز ہوکر دھوکا دینے والا معاشی ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ بجٹ خسارہ دنیا بھر میں مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ یورپی یونین جیسا خطہ بھی اِس کی تباہ کاری سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ دنیا بھر کی معیشتوں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر اُنہیں ڈھنگ سے کام کرتے رہنا ہے تو بجٹ خسارے پر بھی قابو پانا ہوگا اور مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں اپنے مجموعی قرضوں کو بھی قابو میں رکھنا ہوگا۔ یہ سب کچھ غیر معمولی نوعیت کی احتیاطی تدابیر کا متقاضی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں معاشی مشکلات سے نجات پانے کی کوشش میں طرح طرح کے اقدامات کر رہی ہیں، نئی پالیسیاں اپنارہی ہیں۔ پالیسیوں میں لائی جانے والی تبدیلیوں سے کئی معیشتوں کو جھٹکا لگتا ہے۔ تمام ہی ملکوں کے معاشی معاملات اب آپس میں اِس قدر جُڑے ہوئے ہیں کہ کوئی بھی ملک معاشی اور مالیاتی مشکلات سے مکمل محفوظ رہنے کی حالت میں نہیں ہے۔ اِس حوالے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ معاشی استحکام رکھنے والے ممالک بھی یہ دعوٰی نہیں کرسکتے کہ اُنہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ معاشی میدان میں اب کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ (دی گلوبلسٹ ڈاٹ کام

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غیر معمولی نوعیت قومی پیداوار دنیا بھر کی پیداوار کے کا سامنا سامنا ہے کے مساوی یہ ہے کہ کسی بھی رہی ہیں رہا ہے کی شرح کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی