Jasarat News:
2026-06-03@08:41:12 GMT

بجٹ خسارے کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250921-03-4

 

ایم ابراہیم خان

بجٹ خسارہ کسی ایک ملک یا چند ممالک کا قصہ نہیں۔ یہ تو عالمگیر حقیقت ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں بجٹ خسارے کا سامنا کرتی رہی ہیں اور اِس کے ساتھ زندہ رہتی ہیں۔ معاشی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ بجٹ خسارے پر قابو پانا اب بظاہر کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہیں رہا۔ معیشتیں پیچیدہ ہوچکی ہیں۔ عالمی معیشت میں نشیب و فراز کے مراحل بہت تیزی سے رونما ہوتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ملک کو کسی بھی وقت انتہائی نوعیت کی صورتِ حال کا سامنا ہوسکتا ہے اور ہوتا ہی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں کو خام قومی پیداوار کے مقابلے میں غیر معمولی نوعیت کے قرضوں کا بھی سامنا ہے۔ رواں سال دنیا بھر کی حکومتوں کے مجموعی قرضے مجموعی عالمی خام پیداوار کے ۹۵ فی صد کے مساوی ہو جائیں گے۔ زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ رجحان محض جاری نہیں ہے بلکہ جاری رہنے کا امکان ہے یعنی وہ وقت زیادہ دور نہیں جب دنیا بھر کے حکومتی قرضے مجموعی قومی پیداوار سے بڑھ جائیں گے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ منزل ۲۰۳۰ تک آسکتی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں کو بجٹ خسارے کا بھی سامنا ہے۔ رواں سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے پانچ اعشاریہ ایک فی صد کے مساوی ہوگا۔ اور یہ تناسب کئی سال برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔

ایک طرف تو حکومتوں کے قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف حقیقی معاشی نمو کی شرح بہت کم ہے۔ افراطِ زر معقول حد تک نہیں یعنی کم ہے اور دنیا بھر میں بچت کا رجحان بھی انتہائی کمزور پڑچکا ہے۔ یہ تمام حقائق اور عوامل یکجا ہوکر معاشی معاملات کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ بجٹ خسارے اور دیگر پیچیدگیوں کا سامنا کرنے کے لیے دنیا بھر کی حکومتیں غیر معمولی نوعیت کے اقدامات کر رہی ہیں۔ ایسے میں یہ بات بہت عجیب سی لگتی ہے کہ یورپی یونین جیسے مضبوط معاشی خطے میں فرانس جیسے بڑے ملک کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پندرہ سال قبل فرانس قرضوں کے معاملے میں اُتنی ہی مشکل صورتِ حال کا سامنا کر رہا تھا جتنی مشکل صورتِ حال جرمنی کو درپیش تھی۔ جرمنی اب بہت حد تک سنبھل چکا ہے مگر فرانس کا یہ حال ہے کہ اُس کے قومی قرضے مجموعی خام قومی پیداوار کے ۱۱۳ فی صد کے مساوی ہیں اور بجٹ خسارے کی سالانہ شرح ۶ فی صد ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں فرانس کی معاشی صورتِ حال اُس سے کہیں زیادہ پریشان کن ہے۔ پنشن کے پوشیدہ بوجھ کو بھی بجٹ کا حصہ بنایا جاتا رہا ہے۔ وزارتیں اِس بوجھ کو عمومی اخراجات میں شمار کرتی ہیں۔

یورپ کے ایک انسٹیٹیوٹ کے مطابق فرانس میں کم و بیش 18 ارب یورو کے مساوی سرکاری تنخواہوں کو پنشن کی مد میں ظاہر کیا گیا۔ یہ سراسر بے دیانتی ہے کیونکہ ایسا کرکے عوام کو دھوکا دیا گیا۔ ایک اور بڑی مصیبت یہ ہے کہ فرانس میں سیاسی استحکام غیر معمولی نوعیت کا ہے اور اب تو خطرناک بھی ثابت ہو رہا ہے۔ صرف بارہ ماہ میں اب تیسری حکومت بھی گِرتی دکھائی دے رہی ہے۔ بجٹ سے متعلق سفارشات کی منظوری کے لیے سیاسی افہام و تفہیم ناگزیر ہے مگر وہی ممکن نہیں ہو پارہی۔ فرانس جیسے بڑے یورپی ملک کے لیے یہ سب کچھ انتہائی پریشان کن اور تشویش میں مبتلا کرنے والا ہے۔ بجٹ خسارے پر قابو پانے میں ناکامی کے نتیجے میں فرانس میں صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی عدم استحکام بھی بڑھ رہا ہے۔ سرکاری بونڈز پر سُود کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اِس معاملے میں جرمنی کو فرانس پر قدرے سبقت حاصل ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ فرانس میں جو معاشی خرابی ہے وہ اپنی پیدا کردہ ہے۔ اِس میں یورپ کے مرکزی بینک کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ یورپی یونین کے تحت کام کرنے والے مرکزی بینک نے پورے خطے کی برآمدات میں اضافے کے لیے سُود کی شرح پر اثر انداز ہوکر ایسے حالات پیدا کیے کہ یورو کی قدر کم رہے تاکہ برآمدات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جاسکے۔ یوروپین سینٹرل بینک کی کارکردگی پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے کیونکہ اِس کے مصنوعی نوعیت کے اقدامات نے کئی ملکوں کے لیے مشکلات کھڑی کی ہیں۔ سُود کی شرح پر اثر انداز ہوکر دھوکا دینے والا معاشی ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ بجٹ خسارہ دنیا بھر میں مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ یورپی یونین جیسا خطہ بھی اِس کی تباہ کاری سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ دنیا بھر کی معیشتوں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر اُنہیں ڈھنگ سے کام کرتے رہنا ہے تو بجٹ خسارے پر بھی قابو پانا ہوگا اور مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں اپنے مجموعی قرضوں کو بھی قابو میں رکھنا ہوگا۔ یہ سب کچھ غیر معمولی نوعیت کی احتیاطی تدابیر کا متقاضی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں معاشی مشکلات سے نجات پانے کی کوشش میں طرح طرح کے اقدامات کر رہی ہیں، نئی پالیسیاں اپنارہی ہیں۔ پالیسیوں میں لائی جانے والی تبدیلیوں سے کئی معیشتوں کو جھٹکا لگتا ہے۔ تمام ہی ملکوں کے معاشی معاملات اب آپس میں اِس قدر جُڑے ہوئے ہیں کہ کوئی بھی ملک معاشی اور مالیاتی مشکلات سے مکمل محفوظ رہنے کی حالت میں نہیں ہے۔ اِس حوالے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ معاشی استحکام رکھنے والے ممالک بھی یہ دعوٰی نہیں کرسکتے کہ اُنہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ معاشی میدان میں اب کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ (دی گلوبلسٹ ڈاٹ کام

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غیر معمولی نوعیت قومی پیداوار دنیا بھر کی پیداوار کے کا سامنا سامنا ہے کے مساوی یہ ہے کہ کسی بھی رہی ہیں رہا ہے کی شرح کے لیے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور

اویس کیانی: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے معروف صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہوئے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ، معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اہم مشاورت کی۔

ملاقات میں ملک کی بڑی کاروباری شخصیات نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم نے کاروباری برادری کو ملکی معیشت کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی محور برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے، کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے بجٹ میں مختلف اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ حکومت ایسی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کر سکیں۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

اجلاس کے دوران کاروبار، صنعت اور تجارت کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات پر بریفنگ بھی دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات کے فوری فیصلوں کیلئے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جبکہ خصوصی کمرشل کورٹس کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔

بریفنگ میں کراچی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے، موٹرویز کی اپ گریڈیشن، ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری اور نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

کاروباری رہنماؤں نے معاشی بحالی، ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری دوست ماحول کی فراہمی پر وزیراعظم اور حکومتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ وفد نے بجلی کے نرخوں میں کمی، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور کاروباری آسانیوں کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے معاشی ترقی، صنعتی توسیع اور برآمدات میں اضافے کیلئے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

متعلقہ مضامین

  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد