چیچن رہنما کا 17 سالہ بیٹا جائیداد ٹیکس کی نگرانی سمیت کن 7 اہم عہدوں پر براجمان ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
چیچن رہنما رمضان قدیروف نے اپنے 17 سالہ بیٹے آدم قدیروف کو شمالی قفقاز کے علاقے میں بلدیاتی اداروں کی جائیداد ٹیکس کی ادائیگیوں کی نگرانی کا نیا عہدہ دے دیا ہے جو کہ نوجوان قدیروف کے بڑھتے ہوئے سرکاری عہدوں کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق آدم قدیروف نے گزشتہ 2 برسوں میں کم از کم 7 سرکاری عہدے سنبھالے ہیں۔ انہیں سب سے پہلے 2023 میں اپنے والد کی سیکیورٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ اسی سال انہوں نے ایک زیرِ حراست نوجوان کو قرآن جلانے کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنا کر شہرت حاصل کی تھی جس کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: آذربائیجان کا چیچنیا جانے والا مسافر طیارہ تباہ، متعدد ہلاکتوں کا خدشہ
سزا کے بجائے انہیں بعد ازاں متعدد سرکاری اعزازات اور ترقیوں سے نوازا گیا۔
رمضان قدیروف نے بدھ کے روز چیچنیا کی سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق اجلاس میں اپنے بیٹے کو جائیداد ٹیکس وصولی کی نگرانی کا ٹاسک دیا۔
آدم قدیروف اس سے قبل چیچنیا کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری، علاقائی وزارتِ داخلہ کے چیف ایڈوائزر اور روسی وزارتِ دفاع کی 2 بٹالین کے نگران بھی ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد اکٹھی کرنے کے کام کی نگرانی بھی سونپی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سابق کینیڈین وزیراعظم کی امریکی گلوکارہ کیٹی پیری سے قربتیں، سیر و تفریح اور پرتعیش عشائیہ
رمضان قدیروف، جو 48 برس کے ہیں، 2007 سے چیچنیا پر تقریباً مکمل خودمختاری کے ساتھ حکمرانی کر رہے ہیں، جس کے بدلے وہ روس کے وفادار سمجھے جاتے ہیں۔ جلا وطن میڈیا نے قدیروف خاندان کی پرتعیش زندگی کو بے نقاب کیا ہے جس میں مہنگی گاڑیوں کے بیڑے، قیمتی گھڑیاں اور شاندار شادیاں شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیچنیا روس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کی نگرانی
پڑھیں:
داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
اوقاف بورڈ نے زائرین کے نذرانوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے کے الزام میں داتا دربار کے 5 سینئر افسران کو سزا سنادی۔
ملزمان میں سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد، سابق مینجر طاہر مقصود، سابق اسٹینو گرافر ثاقب نسیم سمیت دیگر ملازمین شامل ہیں۔
محکمہ اوقاف بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے انکوائری کے بعد سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو انکے اصل مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لئے کم درجے کے عہدے (BS-15) اور پے اسکیل پر تنزلی کا حکم دیا ہے۔
شیخ جمیل احمد کی 5 سال کی پچھلی سروس بھی ضبط کر لی گئی ہے، انہیں 9,265,800 روپے ادا کرنے ہوں گے جبکہ انکے سروس ریکارڈ میں منفی اندراج بھی کیا جائے گا، مستقبل میں اُنہیں کسی بھی کیش ہینڈلنگ آفس یا فیلڈ ریونیو پوسٹ پر تعینات کرنے پر مستقل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اسی طرح سابق مینیجر داتا دربار طاہر مقصود کو سرکاری ملازمت سے برطرفی کی سزا دی گئی ہے، اسکے ساتھ 11,324,867 روپے (ان کا 55 فیصد واجب الادا حصہ) کی انفرادی مالیاتی ریکوری اور مستقبل میں فیلڈ پوسٹنگز پر مستقل پابندی عائد کی گئی ہے۔
سابق اسٹینو گرافر ایڈمنسٹریٹر آفس ثاقب نسیم کو 4 سال کی مدت کےلئے پچھلی سروس ضبط کرنے کی سزا دی گئی ہے اور ان پر انتظامی پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کسی بھی خفیہ برانچ ایڈمنسٹریٹر دفاتر اور حساس دفاتر یا سی سی ٹی وی سیکیورٹی سے متعلقہ سائنمنٹس پر تعینات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
سابق کیئر ٹیکر نور حسین کو تین سال کی مخصوص مدت کےلئے سالانہ ترقیاں روکنے کی سزا دی گئی ہے اور انہیں داتا دربار یا کسی بھی بڑے کیش جنریٹنگ مزار پر مستقبل میں تعینات کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
سابق کیئر ٹیکر محمد شریف اگرچہ اس مخصوص انکوائری رپورٹ کے الزامات سے بری ہو گئے ہیں لیکن مزار پر ایک زائر سے نقدی چوری کرنے کی وائرل ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد انکے خلاف فوری طور پر علیحدہ اور آزادانہ تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انہیں داتا دربار یا کسی بھی دوسرے بڑے مزار پر تعیناتی سے مستقل طور پر روک دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقدس مذہبی اداروں کے اندرکرپشن عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے، کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے گا۔