کندھکوٹ،پولیس کامغوی اہلکار کی بازیابی کیلیے گرینڈ آپریشن
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کندھکوٹ(نمائندہ جسارت)کندھکوٹ پولیس کا مغوی اہلکار کی بازیابی کے لیے گرینڈ آپریشن، 3 ڈاکو ہلاک، 6 ڈاکو زخمی، جرائم پیشہ افراد کی پولیس کو دھمکیاں دینے کی آڈیو وائرل، ڈاکوؤں کا ہر حال میں خاتمہ کیا جائے گا۔ایس ایس پی محمد مراد گھانگھرو۔ تفصیلات کے مطابق کندھکوٹ بی سیکشن تھانہ کی حدود قمبرانی لاڑو چوکی سے مسلح افراد نے پولیس اہلکار فضل الرحمن کھوسو کو گزشتہ روز دن دہاڑے اغوا کر لیا تھا جس کی باحفاظت بازیابی کیلئے ایس ایس پی کندھکوٹ محمد مراد گھانگھرو کی سربراہی میں بی سیکشن تھانہ کی حدود اور درانی مہر تھانہ کی حدود میں بھیو، جاگیرانی اور بھلکانی گینگز کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کیا گیا جس میں پولیس ترجمان کے مطابق 3 ڈاکو ہلاک اور6 ڈاکو زخمی ہوئے ہیں ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت بدنام اور حکومتی انعام آفتہ ڈاکو صحبت جاگیرانی، شفیق ڈاہانی اور شاہد بھیو کے نام سے ہوئی ہے۔ ایس ایس پی کندھکوٹ محمد مراد گھانگھرو نے کہا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کا گھیراؤ تنگ کر دیا ہے ڈاکو ہمارے نشانے پر ہیں امن میں خلل ڈالنے والے ڈاکوؤں کو معاف نہیں کیا جائے گا ڈاکوؤں کا آخری انجام گولی ہے پولیس نے اپنی کامیاب حکمت عملی سے تین ڈاکوؤں کو مارا ہے ہلاک ہونے والے ڈاکو صحبت جاگیرانی پر 29 مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہیں جبکہ شفیق ڈاہانی کے خلاف 5 مقدمات درج ہیں مزید کرمنل ریکارڈ کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں ۔ دوسری جانب ڈاکو کی ایس ایس پی کو دھمکیاں دینے کی آڈیو وائرل ہوگئی ہے جس میں ڈاکو پی پی ایل گیس فیلڈ کو اڑانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس ایس پی ڈاکوو ں
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔