چین نے سوشل میڈیا پر سختی کیوں بڑھا دی؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
چین نے سوشل میڈیا پرعارضی طور پر سختی بڑھا دی ہے۔
چین کے اعلیٰ انٹرنیٹ ریگولیٹر نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں سوشل میڈیا پر 2 ماہ کی سخت مہم چلائی جائے گی، جس کا مقصد ایسے مواد کا خاتمہ ہے جو ’شرپسندانہ تنازعات بھڑکانے‘ یا ’زندگی سے بیزاری جیسی منفی سوچ‘ کو فروغ دیتا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: کیا چینی طرز پر پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کو کنٹرول کیا جائے گا؟
حکام کے مطابق یہ مہم سوشل میڈیا پر ایک زیادہ مہذب اور معقول ماحول قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا (CAC) کے اس اعلان سے قبل 3 بڑے پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی کی گئی تھی جن میں مائیکرو بلاگنگ سائٹ ویبو، ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم کُوائشو اور انسٹاگرام جیسی ایپ شیاو ہونگ شو (Rednote) شامل ہیں، ان پر الزام تھا کہ یہ پلیٹ فارمز غیر ذمہ دارانہ مواد کو نمایاں کررہے ہیں اور نگرانی کے اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہیں۔
ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ مہم کے دوران ایسے موضوعات کو نشانہ بنایا جائے گا جن کے ذریعے سماجی حساس معاملات کو جبراً شناخت، علاقہ یا جنس کے ساتھ جوڑ کر تنازع کھڑا کیا جاتا ہے یا معیشت، فنانس، سماجی فلاح اور عوامی پالیسیوں سے متعلق افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی انفلوئنسر لی زی چی کی سوشل میڈیا پر واپسی، 3 برس کہاں غائب رہیں؟
اسی طرح انفرادی منفی واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور معاشرے میں بیزاری یا دنیا سے کنارہ کشی جیسے رویوں کو فروغ دینے والے مواد پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔
چین میں حالیہ برسوں کے دوران lying flat یعنی زندگی کی دوڑ سے کنارہ کشی اور Let it not یعنی چیزوں کو تباہ ہونے دینا جیسے رجحانات نوجوانوں میں مقبول ہوئے ہیں، جو سخت محنت اور طویل اوقاتِ کار کے خلاف ردعمل کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ حکام ان رویوں کو بھی روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اس مہم کا مقصد ایک زیادہ مہذب، ذمہ دار اور متوازن آن لائن فضا قائم کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پابندی چین سختی سوشل میڈیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پابندی چین سختی سوشل میڈیا سوشل میڈیا پر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔