جعلی ڈگری کیس : جمشید دستی کو مجموعی طور پر 17سال قید
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
لاہور+ملتان (نوائے وقت رپورٹ+سپیشل رپورٹر) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت ملتان نے عوامی راج پارٹی کے سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں مجموعی طور پر 17 سال قید سنا دی۔ تفصیلات کے مطابق جمشید دستی کے خلاف الیکشن کمشن نے جعلی ڈگری کا کیس دائر کر رکھا تھا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت ملتان نے دفعہ 82 کے تحت ملزم کو 3 سال، دفعہ 420 کے تحت 2 سال، دفعہ 468 کے تحت 7 سال قید کا حکم سنایا۔ دفعہ 471 کے تحت 2 سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانہ جب کہ دفعہ 206 کے تحت 3 سال قید کا حکم سنایا گیا۔ الیکشن کمشن کے مطابق جمشید دستی نے 2008 میں مدرسے کی بی اے کی ڈگری پر الیکشن میں حصہ لیا تھا تاہم سند کا ہائیر ایجوکیشن کمشن کے پاس ریکارڈ موجود نہیں۔ درخواست میں الیکشن کمشن کی جانب سے کہا گیا کہ ملزم جمشید دستی نے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی کی، لہٰذا، حقیقت چھپانے پر ملزم کو نااہل کیا جانا چاہیے۔ الیکشن کمشن نے درخواست میں موقف اپنایا کہ ملزم نے مظفرگڑھ کے حلقہ این اے 178 سے الیکشن میں حصہ لیا، مدرسے کی ڈگری کاغذات نامزدگی کے ساتھ لف تھی، جمشید دستی کی ڈگریوں کا ریکارڈ موجود نہیں۔ خیال رہے کہ 15 جولائی کو الیکشن کمشن نے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو نااہل قرار دیا تھا۔ الیکشن کمشن نے جمشید دستی کے خلاف قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے بھیجا گیا ریفرنس منظور کرتے ہوئے محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: الیکشن کمشن نے جمشید دستی سال قید کے تحت
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔