پاک سعودی دفاعی معاہدے کا ڈرافٹ کافی مشاور ت کے بعد فائنل ہوا،خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کا ڈرافٹ کافی مشاور ت کے بعد فائنل ہواہے،معاہدے کے تحت سعودی عرب میں دفاعی پروجیکٹس میں سرمایہ کاری اور ہماری ٹریننگ پر بات ہوئی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتےہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کی تاریخ رہی ہے ،پہلے بھی کئی ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب میں موجود تھے، اس وقت بھی تقریباً 1600فوجی وہاں ہیں ، پہلی بار دفاعی تعاون کو پیکٹ کی صورت میں لایاگیا ہے ،جس سے دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگااورسعودی عرب میں ہماری موجودگی زیادہ بڑھے گی ۔
ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ طالبان ہمارے بھائی نہیں ہیں،افغان طالبان نے مجھے میرے دورے کے دوران بھی گارنٹی نہیں دی کہ طالبان پاکستان میں داخل نہیں ہوں گے،افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی ہورہی ہے اس کودوست کیسے کہہ سکتےہیں،ہمارے شہری اور فوجی شہیدہورہے ہیں ۔افغانستان دورے پرگیاتو افغان باشندوں کو واپس لینے کے لئے خرچہ مانگاگیاہم خرچہ دینے کو بھی تیارہیں لیکن کیاگارنٹی ہوگی کہ یہ واپس نہیں آئیں گے
انہوں نے کہاکہ غزہ میں اس وقت قیامت کی صورتحال ہے ، امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے غزہ میں کنٹرول کی تجویزمصرودیگرممالک کو بھی دی تھی، ٹرمپ کی کوئی باقاعدہ تجویزآئی تو مسلم ممالک مشورہ کریں گے، ٹرمپ کی طرف سے کیاتجویزآتی ہے دیکھنی پڑے گی ؟ مسلم ممالک دیکھیں گے کہ امن فوج بھیجنی ہے یاکنٹرول لیناہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز