بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مسترد،سیلاب زدگان کی مدد وزیراعلی ریلیف کارڈ سے ہوگی ،عظمی بخاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مسترد،سیلاب زدگان کی مدد وزیراعلی ریلیف کارڈ سے ہوگی ،عظمی بخاری WhatsAppFacebookTwitter 0 23 September, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے وزیر اعلی کا ریلیف کارڈ بنے گا تاکہ کسی کو لائن پر نہ لگنا پڑے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک قانون کے تحت بنا تھا ہر چیز پر سیاست اچھی نہیں ہوتی۔ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب اور ان کی ٹیم ہر وقت سیلاب میں عوام کی خدمت کرتی نظر آتی ہیں، پہلے آپ نے کبھی ایسا نہیں دیکھا ہوگا۔
پنجاب کا کوئی ایسا علاقہ ہوگا جہاں سیلاب آیا اور وزیراعلی پنجاب نہ گئی ہوں، وزیر اعلی اور ان کی ٹیم نے مزدوروں کی طرح سیلاب میں کام کیا، ہمارے پی ڈی ایم اے افسر عبدالرحمان کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وفات پاگئے، پتوکی کے اے سی فرحان احمد بھی وفات پاچکے ہیں۔انہوں ںے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب خود جاکر لوگوں سے بات کرتی ہیں، میں نے نہیں دیکھا کوئی وزیر اعلی اتنا جذباتی ہو، لوگوں کے غم زمین پر بیٹھ کر سنتا ہو ایک نیا طرز حکمرانی آپ پنجاب میں دیکھ رہے ہیں مگر ہمارے ناقدین کو سوائے گندگی کرنے کے کچھ نہیں ہے۔
عظمی بخاری نے کہا کہ پنجاب کے 7 ہزار 794 موضع جات متاثر ہوئے 26 لاکھ افراد متاثر ہوئے، 21 لاکھ مویشی متاثر ہوئے، سیلاب 25 اور 26 اگست کے قریب آیا تھا اور اب بھی سیلاب جاری ہے ابتدائی سروے کرلیے گئے ہیں، 59 انسٹھ لاکھ افراد ان سائیڈ فلڈ سے متاثر ہوئے، 16 لاکھ افراد آٹ سائیڈ فلڈ سے متاثر ہوئے، تین دریاں نے پنجاب کے مختلف ڈسٹرکس کو ہٹ کیا، 27 کے قریب شہر متاثر ہوئے، 2ہزار 213 ٹیمیں فیلڈ میں کام کررہی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآپریشنز سے حل نہیں ، افغانستان سے فوری مذاکرات شروع کریں گے، علی امین آپریشنز سے حل نہیں ، افغانستان سے فوری مذاکرات شروع کریں گے، علی امین فتنہ الخوارج کا مکروہ چہرہ بے نقاب، آبادی کو ڈھال بنا کر تباہی کا کھیل جاری گلوبل صمود فلوٹیلا نے عسقلان جانے کی اسرائیلی پیشکش مسترد کردی، غزہ جانے کا اعلان وزیراعظم آزاد کشمیر کو چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیلئے نام بھیجنے کا حکم پاکستان کو غربت میں کمی، کمزور طبقات کے تحفظ کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے، ورلڈ بینک اسحاق ڈار کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیالCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: متاثر ہوئے وزیر اعلی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔