اے آئی کے بڑھتے استعمال سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں: سام آلٹمین کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے خبردار کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے نتیجے میں دنیا بھر میں بڑی تعداد میں افراد ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
ایک انٹرویو میں اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے انکشاف کیا کہ وہ اکثر اے آئی کے اثرات کے بارے میں سوچ کر بے خوابی کا شکار رہتے ہیں، کیونکہ اوپن اے آئی کی قیادت کرتے ہوئے وہ اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کا بوجھ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
سام آلٹمین نے بتایا کہ میری سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اے آئی ماڈلز کے چھوٹے چھوٹے فیصلے حقیقی دنیا میں غیر معمولی اثرات پیدا کر سکتے ہیں، جو بعض اوقات بڑے فیصلوں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نہ صرف روزگار بلکہ انسانی زندگی کے معمولات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی، پروگرامرز اور ڈویلپرز بھی مستقبل میں اے آئی کے باعث اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ سب سے پہلے کسٹمر سروس سے وابستہ ملازمتیں متاثر ہوں گی، کیونکہ اس شعبے میں زیادہ تر افراد کمپیوٹر یا فون کے ذریعے فرائض انجام دیتے ہیں، اور یہ کام ایک اے آئی ماڈل بھی مؤثر طریقے سے سرانجام دے سکتا ہے۔
تاہم، اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو نے واضح کیا کہ وہ شعبے جہاں انسانی تعلق، ہمدردی اور جذباتی وابستگی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، مثلاً نرسنگ، ان پر اے آئی کے اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے تحقیقی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمومی طور پر ہر 75 برس بعد 50 فیصد ملازمتوں میں تبدیلی آتی ہے، مگر اے آئی کی آمد نے اس عمل کو تیز تر کر دیا ہے اور اب افرادی قوت کو اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے بہت کم وقت ملے گا، یہ وہ نکتہ ہے جو مجھے سب سے زیادہ فکرمند کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہو سکتے ہیں سام آلٹمین اے ا ئی کے اوپن اے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔