ڈسپوزیبل برتن الزائمر کا باعث بن سکتے ہیں، نئی تحقیق میں خطرناک انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک تازہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزمرہ استعمال ہونے والے ڈسپوزیبل پلاسٹک کے برتنوں سے نکلنے والے مائیکرو پلاسٹک ذرات انسانی دماغ تک پہنچ کر الزائمر جیسی مہلک بیماری کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق ماحولیاتی تحقیق سے متعلق جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس میں پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات کے دماغی صحت پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق مائیکرو اور نینو پلاسٹک کے ذرات ہمارے ماحول میں ہر جگہ موجود ہیں، جو خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے مسلسل انسانی جسم میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ ذرات جسم کے تمام نظاموں میں پائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ دماغ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ یہ پلاسٹک ذرات خون اور دماغ کے درمیان موجود حفاظتی رکاوٹ (بلیڈ برین بیریر) کو پار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ رکاوٹ عام طور پر دماغ کو وائرسز اور بیکٹیریا جیسے نقصان دہ عناصر سے بچاتی ہے، لیکن پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات اس میں سے گزرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دماغ میں جمع ہونے والے یہ پلاسٹک ذرات الزائمر بیماری کی علامات کو جنم دیتے ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جن میں یہ بیماری پیدا ہونے کے جینیاتی خطرات موجود ہوں۔ یہ ذرات دماغی صلاحیتوں میں بتدریج کمی کا باعث بنتے ہیں اور یادداشت کے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج خاصے تشویشناک ہیں، کیونکہ پلاسٹک کے یہ ذرات ہماری روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈسپوزیبل پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائیں اور ماحول دوست متبادل مواد کو ترجیح دیں۔ یہ تحقیق پلاسٹک کے ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے ہمارے علم میں ایک اہم اضافہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پلاسٹک کے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔