اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گندم کی امدادی قیمت بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق  وفاقی وزیر برائے خوراک و تحقیق رانا تنویر نے کہا ہے کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ فوڈ آئٹمز پر آئی ایم ایف کو قائل کیا جائے تاکہ کسانوں اور عوام دونوں کا تحفظ کیا جا سکے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ کا اجلاس حسین طارق کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی وزیر رانا تنویر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی کنٹرول کم ہونے کے باعث مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ   حکومت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نئی گندم پالیسی متعارف کرائے گی تاکہ پیداوار اور قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔

رانا تنویر نے خبردار کیا کہ گندم کی امدادی قیمت نہ دینے سے فصل کی پیداوار میں کمی آئی ہے،  اگر پیداوار مزید 6 فیصد گری تو ایک ارب 50 کروڑ ڈالر کی گندم درآمد کرنا پڑے گی، جس سے قومی خزانے پر بھاری بوجھ پڑے گا۔

اجلاس میں چینی کی امپورٹ، ایکسپورٹ اور قیمتوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال چینی کی پیداوار کا تخمینہ 7.

2 ملین ٹن تھا لیکن اصل پیداوار 5.8 ملین ٹن رہی۔

 انہوں نے مزید کہاکہ   13 لاکھ ٹن سرپلس چینی کی وجہ سے انڈسٹری کو شدید نقصان ہوا تھا۔ تاہم حکومت نے اقدامات کر کے چینی کی قیمت 210 روپے فی کلو سے واپس لائی۔

انہوں نے بتایا کہ سرپلس چینی کی برآمد سے 45 کروڑ ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا، مگر اب پیداوار میں کمی کے باعث حکومت کو 15 کروڑ ڈالر کی چینی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ رانا تنویر نے کہا کہ اس سال گنے کی بمپر کراپ کی توقع ہے جس سے چینی کی صورتحال بہتر ہوگی۔

اس موقع پر وزارت غذائی تحفظ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے گندم کی قیمت میں اضافہ ہوا تھا جو اب قابو میں ہے، تاہم چینی کی قیمت کنٹرول نہ ہونے پر کمیٹی ارکان نے سوالات اٹھائے۔ رانا حیات نے استفسار کیا کہ اگر گندم کی قیمت کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے تو چینی کی قیمت کیوں نہیں روکی جا رہی؟  چینی کی درآمد کر کے کرشنگ سیزن میں کسانوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

کمیٹی کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح اور دیرپا پالیسی بنائے تاکہ گندم اور چینی دونوں کے شعبے کو استحکام مل سکے، کسانوں کا نقصان نہ ہو اور عوام کو بھی ریلیف دیا جا سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: رانا تنویر نے گندم کی کی قیمت چینی کی

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز

پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن