کراچی، رضویہ میں پولیس مقابلہ، ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار، اسلحہ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں رضویہ کے علاقے میں پولیس اور ملزمان کے درمیان مبینہ مقابلے کے دوران ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
رضویہ تھانے کے ہیڈ محرر ندیم سجاد کے مطابق مقابلہ گولیمار جہانگیر آباد ندی کنارے کے قریب پیش آیا جہاں پولیس اور مشتبہ ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پولیس نے مقابلے کے بعد ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، جس کی شناخت 22 سالہ اسامہ ولد تنویر کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمی ملزم کو فوری طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے قبضے سے ایک پستول برآمد کیا گیا ہے جبکہ اس کا دوسرا ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
حکام کے مطابق گرفتار ملزم کے کرمنل ریکارڈ کی چھان بین کی جا رہی ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔