Express News:
2026-07-24@07:34:00 GMT

کراچی، فائرنگ کے واقعات میں کمسن بچی سمیت 4 افراد زخمی

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

کراچی:

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں کمسن بچی سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے جس میں 2 ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ 

تفصیلات کے مطابق قائد آباد کے علاقے ریڑھی گوٹھ احسان گراؤنڈ کے قریب فائرنگ کے واقعے میں 2 افراد 35 سالہ رخسار ولد عبدالرحمٰن اور وسیم ولد سیف اللہ کے نام سے کی گئی۔

جبکہ قائد آباد پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے جس کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔

قصبہ اسلامیہ کالونی میں گھر کے اندر گولی لگنے سے کمسن بچی زخمی ہوگئے جسے طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال لیجایا گیا۔ 

پیر آباد پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے پیش آیا ہے جس کی مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔

دریں اثنا گلشن حدید میں فائرنگ سے 26 سالہ  شوکت زخمی ہوگیا ، چھیپا حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ خود سے اتفاقیہ گولی چلنے کی وجہ سے پیش آیا ہے جس کی پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا