Jasarat News:
2026-06-03@02:38:46 GMT

تجدید وتجدّْد

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

(5)

 

جْمہورِ امت کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن وحدیث لازم وملزوم ہیں۔ رسول اللہؐ کا فرمان ہے ’’سنو! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اْس کی مثل بھی اْس کے ساتھ ہے‘ وہ وقت دور نہیں کہ ایک شخص شکم سیر اپنی مَسند پر ٹیک لگائے ہوگا اور کہے گا: اس قرآن کو لازم پکڑو‘ پس جو کچھ تم اْس میں حلال پائو اْسے حلال مانو اور جو کچھ تم اْس میں حرام پائو‘ اْسے حرام مانو۔ سنو! تمہارے لیے پالتو گدھا‘ کْچلیوں (سامنے کے دانتوں) سے شکار کرنے والے درندے (اور دوسری روایت میں پنجوں سے شکار کرنے والے پرندے) حلال نہیں ہیں‘‘ (ابودائود) ’’آپؐ نے فرمایا: وہ وقت دور نہیں کہ ایک شخص کو میری حدیث پہنچے گی‘ وہ اپنی مَسند پر ٹیک لگائے ہوگا اور کہہ رہا ہوگا: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصَل) کتاب اللہ ہے‘ سو ہم اْس میں جو حلال پائیں گے اْسے حلال جانیں گے اور جو حرام پائیں گے‘ اْسے حرام جانیں گے‘ حالانکہ رسول اللہؐ کا کسی چیز کو حرام قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے اللہ کا حرام قرار دینا‘‘۔ (ترمذی) خود قرآنِ کریم نے بتایا کہ حلال وحرام کو طے کرنے کا تشریعی اختیار رسول اللہؐ کے پاس ہے؛ چنانچہ ارشاد ہوا: ’’(اْس نبی کی شان یہ ہے کہ) وہ اْن کے لیے پاک چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں‘‘ (الاعراف: 157)۔ یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ قرآن نہ ہم پر نازل ہوا ہے‘ نہ ہم نے اترتے دیکھا ہے‘ یہ بھی اللہ کے رسول نے بتایا: یہ اللہ کا کلام ہے۔ پس جن صحابہ کرامؓ کی نقل وروایت سے ہمیں قرآن کا قرآن ہونا معلوم ہوا‘ اْنہی کے واسطے سے احادیثِ مبارکہ کا کلامِ رسول ہونا معلوم ہوا‘ اگر رسول اللہؐ اور صحابہ کرامؓ کے تواترِ قولی اور فعلی کو نظر انداز کر دیا جائے تو فرض عبادات پر عمل کرنا بھی مشکل ہو جائے۔

بعض متجدِّدین جن دینی امور کو عہدِ رسالت مآبؐ تک محدود رکھتے ہیں‘ اْن میں جہاد بھی ہے اور کافر کو کافر نہ کہنا بھی ہے‘ جبکہ اْن کے نزدیک اتمامِ حجت کے بعد جہاد بمعنی قتال منسوخ ہو گیا ہے۔ چنانچہ خورشید ندیم صاحب لکھ چکے ہیں کہ پاکستان کی بھارت کے خلاف جنگ جہاد نہیں ہے‘ بلکہ یہ ملکی دفاع کی جنگ ہے‘ جبکہ ہماری مسلّح افواج کا ماٹو ہے: ’’ایمان‘ تقویٰ اورجہاد فی سبیل اللہ‘‘۔

کون کافر ہے‘ کون مسلمان‘ متجددین کے نزدیک یہ اللہ کی عدالت میں قیامت میں طے ہو گا‘ ہم یہ طے کرنے والے کون ہیں‘ پس لازم ہے کہ آپ کفر کو کفر اور کافر کو کافر بھی نہ کہیں‘ اْن کے نزدیک جھوٹے مْدّعیِ نبوت مرزا غلام قادیانی کے لیے بھی گنجائش موجود ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ انہوں نے کہا کہ مرزا غلام قادیانی کے اقوال کو بھی شیخِ اکبر اور دوسرے صوفیہ کرام کے شطحیات پر محمول کیا جائے۔ متجددین کے نزدیک سنّت کی تعریف جمہورِ امت سے جدا ہے‘ اْن کے نزدیک سْنّت ابراہیمؑ سے لے کر خاتم النبیینؐ تک چند امور کا نام ہے‘ پہلے انہوں نے سنّتوں کی تعداد 27 مقرر کی اور پھر بتدریج کم کرتے کرتے 17 تک آ گئے اور جمہورِ امّت کے نزدیک رسول اللہؐ نے شارع کی حیثیت سے جو شعار قائم کیے‘ وہ سب سنّت ہیں؛ البتہ آپؐ کے امتیازات وخصائص اتباع کے لیے نہیں ہیں بلکہ آپؐ کے مقام ومرتبہ کو پہچاننے کے لیے ہیں۔ قرآن کی صریح آیت ہے: ’’ان سب رسولوں (میں سے) ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے‘‘۔ (البقرہ: 253) اور خود سید المرسلینؐ کا فرمان ہے: ’’مجھے (دیگر) انبیائے کرامؑ پر چھے چیزوں میں فضیلت عطا کی گئی ہے (اور پھر آپؐ نے اْن کا بیان فرمایا)‘‘۔ (مسلم) جبکہ متجددین انبیائے کرامؑ کے درمیان تفضیل وتفاضل کے قائل نہیں ہیں۔

رسول اللہؐ کا فرمان ہے: ’’(اے میرے امتیو!) تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنّت کو لازم پکڑو‘ اْن کو داڑھ سے مضبوطی سے پکڑ لو اور ہاں! ایسے نئے امور سے (جن کی اصل سنّت میں نہ ہو) بچے رہو‘ کیونکہ ہر وہ بدعت (جو کسی سنّت کو مٹا دے) گمراہی ہے‘‘۔ (ابن ماجہ) اسی لیے جمہورِ امت کے نزدیک دین قرآن تک محدود نہیں ہے‘ بلکہ دین قرآن وسنّت کے مجموعے کا نام ہے۔ سنّت قرآن کی ضد یا قرآن کے مقابل نہیں ہے‘ بلکہ یہ قرآنِ کریم کی تبیِین ہے‘ تشریح ہے اور اس کی عملی تعبیر اور تفسیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’(اے رسولِ مکرّم!) آپ (وحیِ ربانی کو) جلد یاد کرنے کے شوق میں اپنی زبان کو جلدی حرکت نہ دیا کیجیے‘ اسے آپ کے (دل ودماغ میں) محفوظ کرنا اور اسے آپ کو پڑھانا ہمارے ذمۂ کرم پر ہے‘ پس جب ہم (بزبانِ جبرائیل) اسے پڑھ لیں تو آپ (اطمینان وقرار کے ساتھ) ان کی متابعت میں پڑھ لیا کیجیے‘ پھر اس (کے معانی) کو آپ پر ظاہر کرنا بھی ہمارے ذمے ہے‘‘۔ (القیامہ: 16 تا 19) اس سے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم کے الفاظ میں معانی کا جو بحرِ زَخّار موجود ہے‘ اس کی تفصیل وتشریح رسول اللہؐ کے قول وفعل سے معلوم ہو گی‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں جابجا نماز کا حکم دیا‘ متفرق مقامات پر اس کے بعض ارکان تکبیر‘ قیام‘ قرآت‘ رکوع اور سجود کا ذکر فرمایا‘ لیکن نماز پڑھنے کا پورا طریقہ قرآنِ کریم نے تعلیم نہیں فرمایا‘ یہ امت کو رسول اللہؐ کے تعامل سے معلوم ہوا؛ چنانچہ آپؐ نے فرمایا: ’’تم جیسے مجھے نماز پڑھتا دیکھو‘ ویسے ہی نما ز پڑھو‘‘۔ (بخاری)

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’پس جب تم زمین میں سفر کرو اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں مشکل میں ڈال دیں گے تو تم پر کوئی حرج نہیں کہ نماز میں قصر کر دو‘‘۔ (النسآء: 101) اس سے بظاہر یہ سمجھ میں آتا تھا کہ خطرات کی صورت میں تو مسافر نماز میں قصر کر سکتا ہے‘ لیکن حالتِ امن میں کیا یہی حکم ہے‘ صورتِ حال واضح نہیں ہو رہی تھی‘ حدیث پاک میں ہے: ’’یعلیٰ بن اْمیّہ نے سیدنا عمرؓ بن خطاب سے پوچھا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اگر تمہیں کفار کی جانب سے خطرات میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو نماز کو قصر کر دو‘ اور اب لوگ محفوظ ہو گئے ہیں‘‘ تو سیدنا عمرؓ نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا‘ مجھے بھی ہوا تھا‘ میں نے رسول اللہؐ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: یہ صدقہ (رعایت) ہے جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تو اس کے اس صدقے کو قبول کرو‘‘۔ (ترمذی) سیدہ عائشہؓ کا معمول تھا کہ دین کی کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو رسول اللہؐ سے معلوم کرتیں‘ پس جب نبیؐ نے فرمایا: جس سے حساب لیا گیا‘ وہ مبتلائے عذاب ہو گا‘ وہ بیان کرتی ہیں: میں نے پوچھا: اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: عنقریب ان سے آسان حساب لیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ اْن کی بابت ہے جن کی محض پیشی ہوئی‘ لیکن جس پر تفصیلی جرح ہوئی تو وہ ہلاک ہو جائے گا‘‘۔ (بخاری) آج کل کی زبان میں اسے ’’منی ٹریل‘‘ کہتے ہیں۔

علامہ سید شریف جرجانی لکھتے ہیں: ’’شریعت میں سنّت سے مراد وہ راستہ ہے جو دین میں اْن امور کی بابت مقرر کیا گیا ہے جو فرض اور واجب نہیں ہیں۔ پس سنّت وہ ہے جس پر نبیؐ نے ہمیشگی فرمائی اور کبھی چھوڑ بھی دیا‘ اگر یہ ہمیشگی عبادت کے طور پر ہو تو انہیں’’ سْنَنِ ہْدیٰ‘‘ کہتے ہیں اور اگر عادت کے طور پر ہو تو انہیں ’’سننِ زوائد‘‘ کہتے ہیں۔ سْنَنِ ہْدیٰ کو تکمیلِ دین کے لیے قائم کیا جاتا ہے اور اس کا ترک کراہت یا اِسائَ ت کا سبب بنتا ہے اور سْنَنِ زوائد وہ ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہونا اچھی بات ہے اور ان کا ترک کراہت اور اِسائَ ت کا باعث نہیں ہوتا‘ جیسے رسول اللہؐ کی نشست وبرخاست‘ لباس اور کھانے پینے کی عادات وغیرہ۔ سْنَنِ ہْدیٰ کو سنن مؤکدہ بھی کہتے ہیں‘ جیسے اذان‘ اقامت‘ کْلّی کرنا‘ ناک میں پانی ڈالنا اور سننِ زوائد جیسے: منفرد کا اذان کہنا‘ مسواک کرنا اور نماز اور خارجِ نماز میں بعض امور کی رعایت کرنا‘ اس کا ترک سزا کا موجب نہیں ہوتا‘‘۔ (کتاب التعریفات)

 

مفتی منیب الرحمن.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا فرمان ہے اللہ تعالی ن کے نزدیک رسول اللہ معلوم ہوا نے فرمایا سے معلوم نہیں ہیں کہتے ہیں معلوم ہو ہے اور ا ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی