جعلسازی سے پاکستانی شہریت حاصل کرنیکی کوشش، افغان شہری سمیت 4 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل پشاور نے نادرا ریجنل آفس پشاور سے 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزمان میں صدیق اللہ، سمیع اللہ، فیاض خان اور یونس خان شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے پشاور زون نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے جعل سازی سے پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی اور افغان شہری سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل پشاور نے نادرا ریجنل آفس پشاور سے 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزمان میں صدیق اللہ، سمیع اللہ، فیاض خان اور یونس خان شامل ہیں۔
گرفتار ملزم صدیق اللہ افغان شہری ہے جو جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ گرفتار ملزم یونس خان نے خود کو افغان شہری کے والد کے طور پر نادرا میں پیش ہو کر جعلسازی میں کردار ادا کیا۔ ملزم فیاض خان اور سمیع اللہ نے بطور گواہ اور تصدیق کنندگان جعلی تصدیق فراہم کرکے صدیق اللہ کی پاکستانی شہریت کی غیر قانونی تصدیق کی۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملزمان کو گرفتار کر پاکستانی شہریت افغان شہری ایف آئی اے صدیق اللہ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔