کون سے مریض حج پر نہیں جاسکتے، سعودی وزارت نے وضاحت جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ وزارت مذہبی امور نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی وزارت صحت نے کینسر، پھیپھڑوں، دل اور گردوں سمیت بعض دیگرامراض میں مبتلا مریضوں پر حج 2026ءکی پابندی عائد کردی ہے ، خلاف ورزی اور غلط بیانی کے مرتکب افراد کو ان کے اپنے خرچے پر واپس بھجوا دیا جائے گا۔
یہ بات ترجمان وزارت مذہبی امورنے سرکاری نیوز ایجنسی سے گفتگو کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کو سعودی وزارت صحت نے حج 2026ءکے عازمین کے لیے لازمی طبی ہدایات اور شرائط عائد کی ہیں جن کے مطابق گردوں کے امراض اور ڈائیلاسز کرانے والے مریض، دل، پھیپھڑوں، کینسر، شدید نفسیاتی امراض، بڑھاپا، الزائمر، حمل کے آخری تین ماہ اور کالی کھانسی سمیت فعال متعدی امراض میں مبتلا افراد کے لیے حج 2026ءکی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ طبی سرٹیفیکیشن جاری کرنے والے ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مکمل چھان بین کے بعد صحت کا سرٹیفکیٹ جاری کریں، اگران امراض میں مبتلا شخص غلط بیانی کی وجہ سے حج کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا تو ایسے شخص کو اس کے اپنے خرچے پر واپس بھجوا دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حاجی کیمپوں میں ویکسین لگواتے وقت بھی اگر کسی میں ان امراض کی علامات ظاہر ہوئیں تو اسے حاجی کیمپ میں موجود میڈیکل افسر بھی روکنے کا مجاز ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔