اسپیس ایکس کی بڑی کامیابی: مریخ مشن سے قبل اسٹارشپ کا تجربہ مکمل
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سان فرانسسکو: اسپیس ایکس نے اپنے مریخ مشن کی تیاریوں میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے اسٹارشپ راکٹ کا اہم ترین تجربہ مکمل کر لیا ہے۔
ٹیکساس میں قائم اسپیس بیس کی لانچ سہولت پر اپر اسٹیج نے اپنے 6 ریپٹر انجنز کے ساتھ کامیاب اسٹیٹک فائر ٹیسٹ کیا، جو کمپنی کے مطابق آخری بڑا مرحلہ تھا۔ اب آئندہ دنوں یا ہفتوں میں فلائٹ ٹیسٹ کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ راکٹ، جو دنیا کا سب سے طاقتور اور سب سے بڑا لانچ وہیکل قرار دیا جاتا ہے، اپنے گیارہویں فلائٹ ٹیسٹ کی تیاری میں ہے۔ اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے اس موقع پر کہا ہے کہ انہیں پورا یقین ہے کہ 2029 تک اسٹارشپ کے ذریعے انسانوں کو مریخ پر بھیجا جا سکے گا۔
اس راکٹ کو نہ صرف مریخ کے لیے بلکہ ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند پر عملہ اور سامان پہنچانے کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ انسانی خلائی تحقیق کے اگلے دور میں اہم کردار ادا کرے گا۔
کمپنی کے مطابق آنے والا فلائٹ ٹیسٹ پچھلی دو پروازوں کی طرز پر ہوگا، جس میں اپر اسٹیج اسٹار بیس سے لانچ ہو کر بحرِ ہند میں گرے گا۔ اس سلسلے میں انجینئرز کا کہنا ہے کہ ہر ٹیسٹ کے ذریعے اسپیس ایکس اپنے راکٹ کو مزید محفوظ، قابلِ بھروسا اور طویل دورانیہ مشنز کے قابل بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت نہ صرف تجارتی خلائی پروازوں کے میدان میں ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ انسان کو مریخ پر پہنچانے کے خواب کو حقیقت بنانے میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
اسپیس ایکس کی مسلسل کامیابیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آئندہ دہائی میں خلائی تحقیق اور سفر ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسپیس ایکس
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔