پنجاب حکومت نے "رائٹ ٹو پیس فل پروٹیسٹ ایکٹ 2024" میں ترمیم کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
ترمیمی مسودے میں 10 ہزار اہلکاروں پر مشتمل "رائٹ مینجمنٹ فورس" تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے، جو کسی بھی ہنگامہ آرائی یا تشدد کی صورت میں فوری طور پر کارروائی کر سکے گی۔ پولیس کو ایسے مواقع پر خصوصی اختیارات دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے، تاکہ امن و امان کی صورتحال قابو میں رکھی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب حکومت نے "رائٹ ٹو پیس فل پروٹیسٹ ایکٹ 2024" میں ترمیم کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر محکمہ قانون کو ترمیمی مسودہ تیار کرنے اور اسے جلد از جلد پنجاب کابینہ میں پیش کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ترمیمی بل کا مقصد شہریوں کے پُرامن احتجاج کے حق کو مزید مؤثر قانونی تحفظ فراہم کرنا اور کسی بھی قسم کی پُرتشدد کارروائی کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت احتجاج کے دوران عوامی یا نجی املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کے ذمہ دار احتجاج کے منتظمین ہوں گے۔
ترمیمی مسودے میں 10 ہزار اہلکاروں پر مشتمل "رائٹ مینجمنٹ فورس" تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے، جو کسی بھی ہنگامہ آرائی یا تشدد کی صورت میں فوری طور پر کارروائی کر سکے گی۔ پولیس کو ایسے مواقع پر خصوصی اختیارات دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے، تاکہ امن و امان کی صورتحال قابو میں رکھی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق بل میں یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ پُرامن احتجاج کے دوران شہریوں کی روزمرہ زندگی اور ٹریفک متاثر نہ ہو۔ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے اطلاق سے عوام اور نجی املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا، جبکہ اس سے شہری آزادی اور حق احتجاج متاثر نہیں ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: احتجاج کے دینے کی گئی ہے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔