data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور میں پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت اسموگ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ صوبے میں 38 جدید ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹمز کام کر رہے ہیں، جو فضائی آلودگی کے معیار کی نگرانی کریں گے۔ مریم اورنگزیب نے ہدایت دی کہ ان مانیٹرز کی تعداد بڑھا کر 41 کی جائے اور رپورٹ ہر 8 گھنٹے بعد جاری کی جائے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اسموگ کنٹرول کے لیے 12 ڈرون اسکواڈز اور 8 ای اسکواڈز بھی کام کر رہے ہیں، جب کہ موٹرویز کے اطراف 3 کلومیٹر کا علاقہ اسموگ فری رکھنے کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے۔ مزید برآں، دھان کی کٹائی کے لیے کسانوں کو جدید مشینری اور 5 ہزار سپر سیڈرز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ انجن کی مرمت نہ کرانے والی گاڑیوں کو تین بار جرمانے کے بعد بند کر دیا جائے گا۔ اسی طرح پنجاب میں “لِکوڈ ٹری” (مائع شجرکاری) جیسے جدید منصوبے کی منظوری دی گئی، جبکہ اسکولوں میں 31 اکتوبر تک رنگ دار کوڑے دان نصب کرنے کی ہدایت کی گئی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ اسموگ کی خطرناک صورتحال ظاہر کرنے والی روشنیوں کے سگنل ملنے پر تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند کرنے کا فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ شہری بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور ماحول کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں، جب کہ میڈیا عوام کو زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار