سڈنی سے آکلینڈ جانے والی پرواز میں آگ کی اطلاع، پائلٹ کی ہنگامی “مے ڈے” کال تمام مسافر محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
سڈنی سے نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ جانے والی ایک مسافر بردار پرواز میں اُس وقت سنسنی پھیل گئی جب پائلٹ کو طیارے کے کارگو ہولڈ میں ممکنہ آگ کی اطلاع ملی، جس پر انہوں نے فوری طور پر “مے ڈے” کال دے کر ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی۔ خوش قسمتی سے، طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا اور تمام مسافر محفوظ رہے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ ایک بوئنگ 737 طیارے میں پیش آیا، جس میں 156 مسافر سوار تھے۔ پرواز نے معمول کے مطابق سڈنی سے روانگی لی، تاہم دورانِ پرواز پائلٹ کو کارگو ایریا سے وقفے وقفے سے آگ سے متعلق الرٹس موصول ہونے لگے، جس پر انہوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر فوری طور پر آکلینڈ ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔
ایئرپورٹ پر ایمرجنسی سروسز الرٹ، لینڈنگ کامیاب
آکلینڈ ایئرپورٹ انتظامیہ نے بروقت ردِ عمل دیتے ہوئے ایمرجنسی سروسز کو طیارے کے پہنچنے سے قبل ہی الرٹ کر دیا تھا۔ لینڈنگ کے فوراً بعد تمام مسافروں کو محفوظ طریقے سے طیارے سے نکال لیا گیا۔
ایئرلائن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کارگو ہولڈ میں آگ نہیں تھی اور بظاہر یہ ایک غلط الارم تھا۔ تاہم، انجینئرنگ ٹیم اب طیارے کا تفصیلی معائنہ کرے گی تاکہ اس ممکنہ فالٹ کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔
معمولات بحال، تاہم کچھ پروازوں میں تاخیر کا امکان
آکلینڈ ایئرپورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے باعث کچھ دیر کے لیے ہوائی اڈے پر سرگرمیاں معطل رہیں، تاہم اب معمولات بحال ہو چکے ہیں۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پروازوں سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے اپنی متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ رکھیں، کیونکہ کچھ پروازوں میں معمولی تاخیر متوقع ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔