Islam Times:
2026-07-24@04:21:37 GMT

پاک، سعودیہ معاہدہ اور یمن

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

پاک، سعودیہ معاہدہ اور یمن

اسلام ٹائمز: اگر پاکستان ایسی جنگوں خصوصاً مسلم ممالک سے شراکت دار بنتا ہے تو یہ فیصلہ پاکستانی عوام کو کسی طور بھی منظور نہیں ہوگا، کیونکہ پاکستان کے عوام ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یمن جنگ کے آغاز کے موقع پر پاکستان کی پارلیمان نے اس جنگ سے خود کو دور رہنے کی قرارداد منظور کی تھی۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے یمن کیخلاف جب مسلم ممالک کا اتحاد تشکیل دیا تو اسکے سربراہ کچھ عرصہ قبل ہی سبکدوش ہونیوالے پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف مقرر ہوئے تھے۔ یمنی عوام اور اسوقت کی قیادت نے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کیا، یہ یمن ہی ہے کہ جو اکیلا اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے اور انکے لئے سمندری راستوں کو بند کیے ہوئے ہے۔ رپورٹ: سید عدیل عباس

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ ایک خاص اہمیت کے حامل رہے ہیں، دونوں ممالک کے مابین اخوت و برادری کا رشتہ صرف سیاسی یا معاشی بنیادوں پر نہیں بلکہ ایمان، عقیدہ اور مقدس مقاماتِ مکہ و مدینہ کی نسبت سے ایک روحانی بھی ہے۔ اسی رشتہ کی تازگی اور استواری کا ایک حالیہ مظہر وہ وقت ہے، جب وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف گذشتہ دنوں جب سعودی عرب پہنچے تو ان کا استقبال خصوصی اور شاہانہ انداز میں کیا گیا۔ اس سے قبل ولی عہد محمد بن سلمان ایئرپورٹ پر جاکر سابق وزیراعظم عمران خان کا فقیدالمثال استقبال کرچکے تھے۔ یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض رسمی سفارتی تعلقات کے بجائے ایک برادرانہ اور خصوصی تعلق کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسی پس منظر میں حالیہ دفاعی معاہدہ نہایت اہمیت کا حامل تصور کیا جا رہا ہے، جس کے مطابق اگر کسی تیسرے ملک نے سعودی عرب یا پاکستان پر حملہ کیا تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس معاہدے کی ایک جہت یہ بھی ہے کہ اگر خدانخواستہ اسرائیل، جو خطے میں اسلام دشمن سازشوں کا علمبردار ہے، سرزمینِ حجاز پر حملہ کرے تو پاکستان سعودی عرب کے دفاع میں صفِ اول کا کردار ادا کرے گا۔ اسی طرح یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کو اپنے ازلی دشمن بھارت کی طرف سے جارحیت کا سامنا ہو تو سعودی عرب کس حد تک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔؟ خاص طور پر اس تناظر میں کہ سعودی عرب میں بھارتی شہریوں کی سب سے بڑی تعداد روزگار کے سلسلے میں موجود ہے۔ اگر دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعلقات کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات یک روزہ یا وقتی نہیں، بلکہ ایک طویل اور گہرا تاریخی تسلسل رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین 1967ء میں پہلا باقاعدہ دفاعی معاہدہ ہوا، جس کے تحت پاکستانی فوج نے سعودی فوج کو تربیت فراہم کرنا شامل ہیں۔

1982ء میں ایک اور معاہدہ طے پایا، جس میں مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی پیداوار اور پاکستانی افواج کی تربیت دینے کے لئے تعیناتی کے پہلو شامل تھے۔ 1989ء میں جب عراق نے کویت پر حملہ کیا تو سعودی عرب کے بارڈر پر خطرات بڑھ گئے، اس موقع پر بھی پاکستان نے اپنے فوجی دستے سعودی سرحد پر تعینات کیے۔ 1998ء میں ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پاکستان شدید دباؤ اور مشکلات میں گھرا ہوا تھا، تب سعودی عرب نے پاکستان کو خام تیل اور دیگر ذرائع سے بڑی مدد فراہم کی۔ یہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کو سہارا دیا ہے۔ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے "ویژن 2030ء" کے نام سے ترقی کی ایک نئی راہ اپنائی۔ ابتداء میں ان کے فیصلوں کو بعض ماہرین نے جذباتی اور غیر پختہ قرار دیا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ انہوں نے اپنی جرات مندانہ پالیسیوں کے ذریعے سعودی عرب کو ایک نئے ترقیاتی سفر پر گامزن کیا۔

مقامی پیداوار میں اضافہ اور بیرونی اشیاء پر انحصار کم کرنا۔ سعودی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے غیر ملکیوں پر مقامی افرادی قوت کو ترجیح دینا، کرپشن کے ذریعے جمع ہونے والی بے شمار دولت واپس قومی خزانے میں لانا۔ ایران، قطر اور یمن کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے بعد مصالحت کی راہ اپنانا۔ محمد بن سلمان کے دور میں بعض سنگین غلطیاں بھی ہوئیں، جن میں قطر سے تعلقات منقطع کرنا، یمن پر طویل جنگ مسلط کرنا اور جمال خاشقجی کے قتل جیسے واقعات سعودی عرب کے چہرے پر بدنما داغ کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ایم بی ایس نے رفتہ رفتہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی اور غلطیوں سے سیکھتے ہوئے حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔ یمن پر مسلط کردہ جنگ نہ صرف انسانی المیے کو جنم دیتی ہے بلکہ سعودی عرب کے لیے بدنامی کا سبب بھی بنی۔ بہت مواقع پر غریب اور محاصرے میں پھنسے یمنیوں نے شدید نقصان بھی پہنچایا۔ لاکھوں یمنی شہری بھوک، بیماری اور جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار ہوئے۔

اگر پاکستان ایسی جنگوں خصوصاً مسلم ممالک سے شراکت دار بنتا ہے تو یہ فیصلہ پاکستانی عوام کو کسی طور بھی منظور نہیں ہوگا، کیونکہ پاکستان کے عوام ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یمن جنگ کے آغاز کے موقع پر پاکستان کی پارلیمان نے اس جنگ سے خود کو دور رہنے کی قرارداد منظور کی تھی۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے یمن کیخلاف جب مسلم ممالک کا اتحاد تشکیل دیا تو اس کے سربراہ کچھ عرصہ قبل ہی سبکدوش ہونے والے پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف مقرر ہوئے تھے۔ یمنی عوام اور اس وقت کی قیادت نے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کیا، یہ یمن ہی ہے کہ جو اکیلا اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے اور انکے لئے سمندری راستوں کو بند کیے ہوئے ہے، حالانکہ انکے وزیرِاعظم اور کابینہ کے بشتر افراد اسرائیلی فضائیہ حملے میں شہید ہوئے، مگر یمن مظلوموں کی حمایت سے بالکل بھی پیچھے نہیں ہٹا۔ اس صورتحال میں پاک، سعودیہ معاہدے کو یمن کیخلاف کسی بھی قسم کے اقدام سے دور رکھنے کی ضرورت ہے، بلکہ یمن کو اسرائیل کیخلاف قدرت مند بنانا مقصد ہونا چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ سعودی عرب سعودی عرب کے دونوں ممالک پاکستان کے مسلم ممالک پر حملہ کے ساتھ

پڑھیں:

اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بشریٰ بی بی بلاول بھٹو زرداری پاکستان سعودی عرب سہیل آفریدی مریم نواز

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار