ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ویمنز ورلڈکپ میں کسی بھی ممکنہ تنازعے سے بچنے کے لیے احتیاطی اقدامات اٹھا لیے ہیں۔
ورلڈکپ میں پاک بھارت ویمنز میچ سے ایک دن قبل، پاکستان ویمن ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا کی پریس کانفرنس کے دوران کچھ صحافیوں نے غیر رسمی انداز میں موجودہ سیاسی حالات پر سوالات اٹھانے کی کوشش کی۔ اس پر آئی سی سی کی میڈیا مینیجرسیپوا کازی نے فوری مداخلت کرتے ہوئے واضح ہدایت دی کہ پریس کانفرنس صرف کرکٹ تک محدود رکھی جائے گی۔ کسی بھی سیاسی معاملے یا دونوں ٹیموں کے ہینڈ شیک سے متعلق سوالات کی اجازت نہیں ہوگی۔
ان ہدایات کے بعد پریس کانفرنس کا سلسلہ آگے بڑھا، جس میں کپتان فاطمہ ثنا نے بھارت کے خلاف میچ کی تیاریوں، ٹیم کی حکمت عملی، اور موجودہ فارم پر بات کی۔
فاطمہ ثنا نے کہاکہ ہماری توجہ صرف اور صرف کرکٹ پر ہے۔ بھارت کے خلاف میچ کیلئے بھرپور تیاری کی ہے، لیکن فائنل الیون کا اعلان ابھی نہیں کر سکتے۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ بنگلادیش کے خلاف شکست کے بعد ٹیم کا ورلڈکپ سے باہر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں، ہم واپسی کریں گے۔ پوری ٹیم نے محنت کی ہے، اور سب کا فوکس اگلے میچز پر ہے۔ جب ایک صحافی نے ماضی میں ٹیموں کے دوستانہ تعلقات اور میل جول سے متعلق سوال کیا تو فاطمہ نے محتاط انداز میں جواب دیتے ہوئے کہاکہ پہلے ٹیموں میں آپس میں گھلنا ملنا عام تھا، جو خوش آئند تھا، لیکن موجودہ حالات میں ہماری اولین ترجیح صرف کھیل ہے۔ ہمیں علم ہے کہ میدان سے باہر کیا کچھ ہو رہا ہے، لیکن ہم صرف کرکٹ پر فوکس کر رہے ہیں۔ اپنی کپتانی سے متعلق سوال پر فاطمہ کا کہنا تھاکہ کم عمری میں کئی اعزازات ملے، جو میرے لیے باعثِ فخر ہیں۔ ٹیم میں شامل سینئر کھلاڑی مجھے بھرپور سپورٹ کرتی ہیں، اور ہم سب ایک ٹیم کی طرح متحد ہو کر میدان میں اترتے ہیں۔ آئی سی سی کی سخت ہدایات نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھنا ناگزیر ہے۔ پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا کا بھی یہی پیغام تھا — ہم یہاں صرف کرکٹ کھیلنے آئے ہیں، اور یہی ہماری اصل توجہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پریس کانفرنس فاطمہ ثنا صرف کرکٹ

پڑھیں:

سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری

بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
 سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
 سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا