سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پشاور: خیبرپختونخوا کے نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے باقاعدہ طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ گورنر خیبرپختونخوا **فیصل کریم کنڈی نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں انہیں حلف دلایا۔
تقریب حلف برداری میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، پاکستان تحریک انصاف کے قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان، آئی جی پولیس، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
یہ حلف برداری پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر عمل میں آئی، جہاں چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے فیصلہ دیا تھا کہ گورنر خیبرپختونخوا بدھ کو سہیل آفریدی سے حلف لیں۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ اگر گورنر نے یہ کام نہیں کیا تو اسی روز اسپیکر کو یہ ذمہ داری سونپی جائے گی۔
یاد رہے کہ دو روز قبل سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں90 ارکان کی حمایت سے وزیراعلیٰ منتخب کیا گیا تھا، جبکہ اس موقع پر اپوزیشن نے واک آؤٹ کر کے احتجاج کیا تھا۔ اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سہیل ا
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔