افغان طالبان کی درخواست پر پاکستان کا 48 گھنٹوں کیلئے سیز فائر کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسلام آباد: افغان طالبان کی درخواست پر پاکستان نے سیز فائر کا فیصلہ کرلیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست کی گئی تھی۔
وزارت خارجہ کے مطابق افغان طالبان کی درخواست پر اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی سیزفائرکا فیصلہ کیا گیا، ذرائع کے مطابق سیز فائر کا آغاز ہوگیا ہے۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہےکہ دو طرفہ تعمیری بات چیت سے مسئلےکا مثبت حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق اور افغانستان کی جانب سے ممکنہ طور پر افغان وزیر خارجہ مذکرات کریں گے۔
علاوہ ازیں، پاک فوج نے چمن کے حساس سرحدی علاقے اسپن بولدک میں افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بدھ کی صبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں 4 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جن کا پاکستانی فورسز نے نہایت پیشہ ورانہ مہارت اور فوری ردِعمل کے ساتھ جواب دیا۔
ترجمان پاک فوج کے بیان کے مطابق حملہ آوروں نے شہری آبادی کو ڈھال اور نشانہ بنانے کی کوشش کی اور یہاں تک کہ پاک افغان فرینڈشپ گیٹ کو بھی تباہ کر دیا، جس سے ان کے غیر ذمہ دارانہ اور دشمنانہ عزائم آشکار ہو گئے، تاہم پاکستانی جوانوں نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے حملہ مکمل طور پر پسپا کر دیا۔
ترجمان کے مطابق جوابی کارروائی میں 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ان کے متعدد ٹھکانے اور اسلحہ تباہ کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق فتنۃ الخوارج کے اسٹیجنگ پوائنٹس پر بھی اضافی عسکری سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم پاک فوج نے سرحدی علاقے میں مکمل کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: افغان طالبان کی درخواست کے مطابق
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔