پاکستان کی خفیہ کارروائی میں طالبان انٹیلیجنس چیف ہلاک، ’قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا‘
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے افغان صوبے قندھار اور دارالحکومت کابل میں طالبان اور مبینہ دہشتگرد عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں مخصوص اور اہم اہداف کے خلاف کی گئیں، جن میں طالبان کی اعلیٰ قیادت بھی شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا چمن میں پاک افغان دوستی گیٹ کو تباہ کرنے کا جھوٹا پروپیگنڈا بےنقاب
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طالبان کے انٹیلیجنس چیف، ملا عبد الحق، قندھار میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران لیزر گائیڈڈ میزائل حملے میں ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ایک انتہائی حساس مقام پر کیا گیا، جہاں طالبان قیادت کا اہم اجلاس جاری تھا۔
کابل: طالبان انٹیلیجنس چیف ملّا عبد الحق قندھار میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران لیزر گائیڈڈ میزائل حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ ایک حساس مقام پر کیا گیا جہاں طالبان قیادت کا اجلاس جاری تھا۔
طالبان حکام نے تاحال واقعے کی باضابطہ تصدیق یا تردید… pic.
— Haroon ul Rasheed (@Haroonn_natamam) October 15, 2025
ذرائع کے مطابق ملا عبد الحق پاکستان میں کئی دہشتگرد کارروائیوں اور منصوبوں میں براہِ راست ملوث تھے۔ پاکستانی حکام نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر یہ ٹارگٹڈ آپریشن انجام دیا، جس میں انہیں ان کے ہی ہیڈکوارٹر میں نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔
حملے کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کی جانب سے پاک فوج کی کارروائی کو سراہا گیا اور اسے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک واضح اور دو ٹوک پیغام قرار دیا گیا۔ عوامی ردِعمل میں کہا گیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی دہشتگردی یا بیرونی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔
???????? Taliban Intelligence Chief was involved in multiple terrorist activities and planning’s in Pakistan.
???????? Pakistan struck him during a meeting and eliminated him inside his own headquarters.
Message is clear: Zero tolerance for threats to national security! ???? pic.twitter.com/mR3SdOfE4x
— Zard si Gana (@ZardSi) October 15, 2025
سوشل میڈیا صارفین اس حملے بعد پاک فوج زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے نعرے لگاتے نظر آئے۔
پاکستان ایئر فورس نے آج کابل میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیئے ایک انتہائی درست سرجیکل سٹرائیک میں طالبان کے انٹیلی جنس چیف مولوی عبدالحق واثق کو جہنم رسید کر دیا-
پاک افواج زندہ باد ????⚔????⚓
پاکستان پائندہ باد ????????❤???? pic.twitter.com/7torPngHvd
— Amir H. Qureshi (@AmirHQureshi) October 15, 2025
دوسری جانب، ان کارروائیوں کے بعد افغانستان نے پاکستان سے سیزفائر کی درخواست کی، جسے پاکستان نے عارضی طور پر قبول کر لیا ہے۔ باہمی اتفاق رائے سے آئندہ 48 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
تاہم پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں یہ جنگ بندی طویل عرصے تک برقرار نہیں رہ سکے گی، کیونکہ اس وقت طالبان کے بیشتر فیصلے دلی سے سپانسر ہو رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان پاک افغان جنگ پاک فوج پاکستان افغانستان سیز فائر خواجہ آصف سیز فائر طالبان انٹیلی جنس چیف کی ہلاکتذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان پاک افغان جنگ پاک فوج پاکستان افغانستان سیز فائر خواجہ ا صف سیز فائر میں طالبان کے مطابق
پڑھیں:
افغان طالبان ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں: ڈی جی آئی ایس پی آر
ویب ڈیسک: 25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو، کہا 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ ْان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے،رواں سال صوبہ خیبرپختونخوا میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے۔
طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان بارڈ پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے، بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہونگے۔
اقرار الحسن وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں؟ شاید میں سیکنڈ لیڈی بن جاؤں: فراح اقرار
پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورت حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے، دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، اسکے برعکس ،افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں، اگر افغان بارڈر سے متصل علاقوں کو دیکھا جائے تو وہاں آپکو بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ دیکھنے کو ملتاہےجو گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے۔
اب ہر شہری کا موبائل فون کیمرہ سیف سٹی کا کیمرہ بن سکے گا
ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے جسکی سہولت کاری فتنہ آل خوارج کرتے ہیں، اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں آرہی ہیں یا غیر قانونی اسمگلنگ اور تجارت ہو رہی ہےتو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہےتو انہیں کس نے روکنا ہے؟
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے، پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں، افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ ، داعش اور دہشتگرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے۔
ریمبو سے شادی نہ کروانے پر صاحبہ نے خودکشی کی دھمکی دی تھی، نشو بیگم
وہاں سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، ہم نے انکے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں، اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے توپاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا، پاکستان کے اس موقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے۔
فتنہ الخوارج کے بارے میں طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، ہجرت کر کے آئے ہیں اور ہمارے مہمان ہیں غیر منطقی ہے، اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ہمارے حوالے کریں، ہم انکو اپنے قانون کے مطابق ڈیل کریں گے، یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟
یوم یکجہتی فلسطین: صدر مملکت اور وزیراعظم نے فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنےکا عزم دہرادیا
SIGAR کی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا امریکی فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی ہیں، افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے، افغانستان میں 2021 کے بعد ریاست اورحکومت کا قیام ہونا تھا جو ممکن نہ ہوسکا، طالبان رجیم نے اس وقت Non State Actor پالے ہوئے ہیں جو خطے کےمختلف ممالک کیلئے خطرہ ہیں۔
پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہئے، دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری سے اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا مگر اس پراب تک عمل نہیں ہوا، افغان طالبان رجیم افغانیوں کا نمائندہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا، افغانستان کی 50 فیصد خواتین کی نمائندگی کا اس رجیم میں کوئی وجود نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارا افغانیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے، پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے، خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے، ہمارے لئے اچھے یا برے دہشتگرد میں کوئی تفریق نہیں، ہمارے لئے اچھا دہشتگرد وہی ہے جو جہنم واصل ہو چکا، ہمیشہ حق باطل پے غالب آتا ہے، ہم حق پر ہیں اور حق ہمیشہ فتحیاب ہوتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے عمل کے تحت 2024 میں 366,704 جبکہ 2025 میں 971,604 افراد کو واپس بھیجا جاچکا ہے،صرف رواں ماہ یعنی نومبر کے دوران 239,574 افراد کو واپس بھیجا گیا، ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنےوالی قیادت کی اجارہ داری ہے، انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے، جس ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں, 26 مقامات پر حملہ ہو جائے اور ایس-400کی بیٹریاں تباہ ہو جائیں تو ایسے ٹریلر پر مبنی فلم ان کیلئے horror فلم بن جائے گی۔
سندور میں ہوئی شکست پر بار بار کے جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غم و غصے کو تحلیل کرنے کیلئے ہیں،کوئی بھی ملک اگرافغان طالبان رجیم کو فوجی سازو سامان مہیا کرتا ہے تو یہ دہشتگردوں کے ہاتھ ہی لگے گا، ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ بنانےوالے X اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلتے ہیں، پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور دیگر معاملات میں زہر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا کے یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں، یہ بات واضح ہے کہ جو سوشل میڈیا پاکستان میں چل رہا ہے درحقیقت اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں، دہشتگردی پر تمام حکومتوں اورسیاسی پارٹیوں کا اتفاق ہےکہ اس کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے، اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے- جبکہ خیبر پختونخوا میں اسکی کمی نظر آتی ہے۔
اس نظام کے تحت ضلعی ، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور implementation کمیٹیاں بنائی گئی ہیں،ایرانی ڈیزل کی سمگلنگ غیر قانونی سپیکٹرم کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اس مد میں حاصل ہونے والی رقم دہشتگردی کے فروغ کیلئے استعمال کی جاتی ہے، ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پر آرمی اور ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پہلے 20.5 ملین لیٹر ڈیزل کی یومیہ اسمگلنگ ہوتی تھی۔، یہ مقدار کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر یومیہ پر آ چکی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ایران سے سمگل ہونے والے ڈیزل کی مد میں حاصل ہونے والی رقم بی ایل اے اور BYC کو جاتی ہے، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے باعث بلوچستان کے 27 ضلعوں کو پولیس کے دائرہ اختیار میں لایا جا چکا ہے جو کہ بلوچستان کا 86فیصد حصہ ہے، بلوچستان میں صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز مقامی لوگوں سے مسلسل انگیجمنٹ کر رہے ہیں،اس طرح کی 140 یومیہ اور 4000 ماہانہ انگیجمنٹ ہو رہی ہیں جسکے بہت دورس نتائج ہیں، ان حکومتی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو قابو نہیں کیا جا سکتا۔