جنرل (ر) فیض حمید نے کالعدم ٹی ٹِی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو بلٹ پروف گاڑی تحفے میں دی، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ جنرل (ر) فیض حمید نے کالعدم ٹی ٹِی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو بلٹ پروف گاڑی تحفے میں دی۔
نجی ٹی وی ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنرل فیض دہشت گردوں کی پاکستان واپسی کے منصوبے کے خالق تھے، جنرل باجوہ اور عمران خان اس منصوبے میں ان کے ساتھ شریک تھے۔ منصوبے کی تکمیل کے لیے جنرل فیض کو کور کمانڈر پشاور لگایا گیا۔ پی ڈی ایم حکومت کے دوران جنرل باجوہ آرمی چیف تھے جبکہ جنرل فیض کور کمانڈر پشاور برقرار رہے۔انہوں نے دہشت گردوں کو پاکستان واپس ٹرانسپورٹ کیا،۔جنرل فیض نے کالعدم ٹی ٹِی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو بلٹ پروف گاڑی تحفے میں دی۔ یہ سب دہشت گرد پی ٹی آئی دور میں واپس آئے۔
اسلام آباد جانے کی تیاری کریں، مولانا فضل الرحمان کا کارکنوں سے خطاب
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت تھوڑی خود داری کا مظاہرہ کرے اور اپنے لوگوں کو واپس لے جائے، 40 لاکھ افغانی پاکستان میں کیا کر رہے ہیں، اپنے ملک نہیں لے جانا تو انہیں بھارت بھجوا دیں کرایہ بھی کم لگے گا، یہ محسن کش لوگ ہیں، جتنے افغانستان میں بڑے بڑے نام اور حکمران ہیں یا تھے وہ پاکستان میں پناہ گزین رہے۔ اس وقت کے حکمرانوں کی فیملیز بھی پاکستان میں ہیں۔ پاکستان کیوں ان کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے امریکی انخلا کے بعد افغانستان کے بارے میں کہا تھا کہ "طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے۔ یہ اس وقت میرے جذبات تھے مگر جو تین سالوں میں انہوں نے ہمارے ساتھ کیا ہے تو اب ہمیں اپنے جذبات کو درست کرنا ہے۔"
44 سال بعد اسلامی چھاترو شبر نے چٹاگانگ یونیورسٹی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔