کوئٹہ ایف سی حملہ، خودکش بمبار افغان دہشت گرد نکلا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ پاکستان میں کارروائیوں میں افغان دہشتگرد عناصر سرگرم ہیں
پاکستان کو نشانہ بنانے میں افغان دہشتگرد گروہ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں،سیکیورٹی ذرائع
سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ 30 ستمبر کو فرنٹیٔر کور ہیڈکوارٹر نارتھ کوئٹہ پر ہونے والے خودکش حملے کا بمبار افغان دہشتگرد تھا۔ ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے اس حملہ آور کی شناخت محمد سہیل عرف خباب کے طور پر ہوئی، جو افغانستان کے صوبہ وردک کے ضلع میدان کا رہائشی تھا۔اس خودکش حملے میں آٹھ شہری شہید اور چالیس زخمی ہوئے تھے۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق یہ حملہ اس بات کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ پاکستان میں ہونے والی کارروائیوں میں افغان دہشتگرد عناصر سرگرم ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کے نیٹ ورکس اور افغان سرزمین سے جاری معاونت خطے کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ افغان طالبان کی عہد شکنی اور دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی پر مسلسل تشویش بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کو نشانہ بنانے میں افغان دہشتگرد گروہ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: میں افغان دہشتگرد
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔