کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل: سیاسی شخصیات کی گرفتاری کا بھی امکان
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: نیب خیبرپختونخوا نے اپرکوہستان 40 ارب روپے کے میگا کرپشن اسکینڈل میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم مشتاق الرحمان کو اسلام آباد کے علاقے سے حراست میں لیا گیا، ملزم کی گرفتاری کے بعد مزید افراد ریڈار پر آگئے جن میں بعض سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں اور ان کی گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئی گرفتاری کے ساتھ اس مقدمے میں گرفتار ملزمان کی کل تعداد 33 تک پہنچ گئی ہے جن میں بیشتر ملزمان اس وقت جیل میں پڑے ہیں۔
نیب نے اسلام آباد سے قیمتی گاڑیاں بھی قبضے میں کرلی ہیں جو اس سے قبل احتساب عدالت کے حکم پر منجمد کی گئی تھیں۔اس اسکینڈل میں کئی سرکاری افسران، ٹھیکہ داروں وغیرہ کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور اربوں کی ریکوری بھی ہوچکی ہے۔
واضح رہے کہ کوہستان میگا کرپشن کیس صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈلز ہے جس میں اربوں روپے کے فنڈز جعلی منصوبوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے ہڑپ کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔