لندن ہائیکورٹ کے حکم پر عادل راجا نے سابق فوجی افسر سے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-08-28
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) لندن ہائی کورٹ کے حکم پر یوٹیوبر عادل راجا نے بریگیڈئر ریٹائرڈ راشد نصیر سے جھوٹے الزامات اور کردار کشی پر تحریری معافی مانگتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ان کے پاس اس حوالے سے ثبوت نہیں ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری معافی نامے میں عادل راجا نے لکھا کہ عدالت نے کہا جون 2022 میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور ہتک آمیز تھے اور9 اکتوبر 2025 کو فیصلے میں مجھے ذمے دار ٹھہرایا گیا۔ عادل راجا نے ٹویٹ میں کہا کہ مجھے راشد نصیر کو 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، عدالت نے میرے خلاف قانونی اخراجات بھی منظور کیے ہیں۔ بے بنیاد الزامات کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ14 سے 29 جون 2022 کے دوران میں نے ہتک آمیز الزامات لگائے تھے اور میرے پاس ان الزامات کا کوئی دفاع موجود نہیں تھا لہٰذا میں لندن ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق معافی مانگتا ہوں۔ خیال رہے کہ عدالت نے ہدایت کی تھی کہ مجرم عادل راجا 22 دسمبر سے پہلے معافی مانگے اور معافی 28 دن تک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نمایاں رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ عادل راجا نے جون 2022 میں جو الزامات عائد کیے تھے، ان کے حق میں کوئی قابلِ قبول ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور یہ تمام دعوے محض بہتان اور شخصیت کشی پر مبنی تھے۔ لندن ہائی کورٹ نے عادل راجا کو ہدایت کی ہے کہ وہ بریگیڈئیر(ر) راشد نصیر کو 50ہزار پاؤنڈ یعنی ایک کڑور 87 لاکھ ہرجانہ اور بھاری قانونی اخراجات بھی ادا کریں۔ عدالت نے انہیں 2لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ (9کروڑ 72 لاکھ روپے) بطور عبوری اخراجات فوری طور پر ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ تمام مالی واجبات 22 دسمبر 2025 تک ادا کرنا لازمی ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔