عادی مجرم عادل راجہ نے معافیاں مانگنے کی ابتدا کر دی،
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
سٹی42: پاکستان کے سینئیر ریٹائرڈ فوجی کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کے مجرم عادل راجہ نے لندن ہائی کورٹ کے حکم پر معافیاں مانگنے کی ابتدا کر دی۔ لندن کی عدالت نے عادل راجہ کے جھوٹے الزامات پر ریٹائرڈ بریگیڈئیر راشد نصیر کی درخواست پر عادل راجہ کو بھاری جرمانہ کیا اور اسے متاثرہ بریگیڈئیر راشد نسیر سے تحریری معافی مانگنے کا حکم دیا۔
عادل راجہ نے اپنے جرم کو تسلیم کرنے کی بجائے ہٹ دھرمی دکھائی اور زیریں عدالت کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، ہائی کورٹ نے عادل راجہ کی سزائیں بڑھا دیں، جرمانہ میں اضافہ کر دیا اور اسے معافی نامے اپنے تمام سوشل میڈیا پروفائلز پر مسلسل 28 دن تک نمایاں آویزاں رکھنے کا حکم دیا۔ عادل راجا نے اس حکم کے بعد اپنے وکیل سے کہلوایا کہ ہم اس کے خلاف اپیل میں جائیں گے لیکن آج خاموشی سے معافیاں مانگنے کی ابتدا کر دی ہے۔
باغبان پورہ کی خواتین نے بلاول سے سیاست چھڑوا دی، اسکے بعد کیا باتیں ہوئیں؟ دلچسپ رپورٹ
بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے اور ان کی کردار کشی کرنے پر تحریری معافی عادل راجا نے اپنے ایکس پروفائل پر پوسٹ کی۔ یہ معافی اسے اپنے تمام سوشل پلیت فارمز پر بنے پروفائلز پر بھی پوسٹ کرنا ہے۔
اس معافی نامے میں عادل راجہ نے اپنی ہٹ دھرمی بہرحال نہیں چھوڑی اور اپنی جرم ثابت ہو چکی کردار کشی کی حرکت کا اعتراف کرنے کی بجائے یہ لکھا کہ "عدالت نے کہا کہ جون 2022 میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور ہتک آمیز تھے.
وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر فلسطینیوں کیلئے 100 ٹن امدادی سامان روانہ
عادل راجہ پاکستان میں بھگوڑا ہو کر انگلینڈ میں چھپا ہوا ہے اور پاکستان کی ریاست اور شخصیات پر تقریباً روزانہ جھوٹے الزامات تھوپنے کے مکروہ ملک دشمن کام مین ملوث ہے۔ اب عادل راجہ کو پاکستان کے حوالے کرنے کے لئے پاکستان نے انگلینڈ سے رسمی درخواست کی ہے اور اس عادی مجرم کو پاکستان واپس لا کر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے عملی کام کا آغاز کر دیا ہے۔
Waseem Azmet
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کا حکم دیا ہائی کورٹ عدالت نے
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔