سست انٹرنیٹ کے پریشان صارفین کے لئے اچھی خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
پاکستان میں سست انٹرنیٹ کے پریشان صارفین کے لئے اچھی خبر آگئی ، انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری لانے کے لئے افریقہ ٹو کیبل پروجیکٹ کا آغاز ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹرترقی کی جانب گامزن ہے، حکومت پاکستان کی ٹیلی کام اور آئی ٹی سیکٹر میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہے۔حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ فراہمی میں مسائل کے باعث حکومت پاکستان کی جانب سے افریقہ ٹوکیبل پروجیکٹ کاآغاز کیا گیا، افریقہ ٹو کیبل پروجیکٹ دنیا کا سب سے بڑا زیر سمندر نیٹ ورک ہے۔یہ منصوبہ 45,000 کلومیٹرطویل زیرِسمندرکیبل نیٹ ورک پر مشتمل ہے ، منصوبہ 33 ممالک میں46لینڈنگ اسٹیشنزکوجوڑتاہے ، پاکستان میں افریقہ ٹو کیبل پروجیکٹ لینڈنگ مقام ہاکس بے اور کیماڑی ٹان کراچی میں ہوگی۔
پاکستان میں افریقہ ٹو کیبل پروجیکٹ لینڈنگ کا مقامی آپریٹرٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس ہوگا، یہ منصوبہ ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری لائے گا۔مالی سال2022 سے 2023 تک ٹیلی کام آمدنی میں17 فیصداضافہ ہوا جبکہ سال 2023 سے 2024 تک پاکستان کی ٹیلی کام کی آمدنی 955 بلین روپے تک پہنچ گئی۔پاکستانی معیشیت میں ٹیلی کام کا مجموعی تعاون 2024 میں335 بلین روپے تک پہنچ گیا، ٹیلی کام کی سیلولر خدمات پاکستان کی 91 فیصد آبادی کو دستیاب ہیں، 4G خدمات سے 81 فیصدآبادی مستفید ہو رہی ہے۔
پاکستان کے آئی ٹی یو کے آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس 2024 میں بھی 14 فیصد اضافہ ہوا، ملک میں موبائل فون صارفین کی تعدادمیں 29 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس سے ڈیجیٹل کنیکٹوٹی میں اضافہ ہوگا۔گھروں کو انٹرنیٹ کی 20 فیصد تک رسائی بڑھا دی گئی، جس سے ڈیجیٹل خواندگی اورمعیشت میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی، پاکستان دنیا کے ان 37 ممالک میں شامل ہوگیا ہے ، جنہوں نے WebTrust آڈٹ شدہ نیشنل پبلک انفراسٹرکچر قائم کی، اس اقدام سے ملک میں سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل سرٹیفیکیشن کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستان کی ٹیلی کام
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔