جامعۃ الازہر کا پاکستان میں کیمپس قائم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
اسلام آباد:مفتی اعظم مصر ڈاکٹر نظیر محمد عیاد نے پاکستان میں جامعۃ الازہر کا کیمپس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد اسلامی تعلیمات کے ساتھ عربی ثقافت کا فروغ بھی ہے۔یہ اعلان اسلام آباد میں وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کے دوران کیا گیا۔
مصری مفتی اعظم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ جامعۃ الازہر میں40 فیصد سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں اور یہ ادارہ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے بہت پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنے علما کو مصر بھیجنا چاہیے تاکہ وہ جامعۃ الازہر کی تعلیمات اور تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور مصر دونوں قدیم تہذیبوں کے حامل ممالک ہیں۔ جامعۃ الازہر کو اسلامی دنیا کا اہم تعلیمی ادارہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت تعلیم اس کیمپس کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عربی زبان کی تعلیم پر بھی زور دیا جا رہا ہے اور وفاقی دارالحکومت کے تمام سرکاری اسکولوں میں عربی کی کلاسز شروع کی گئی ہیں تاکہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے آگاہی حاصل کی جا سکے۔
اس کے علاوہ 11 جنوری کو ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان بھر کی 2ہزار سے زائد طالبات کو شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے تاکہ خواتین کو مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرنے کا عزم اجاگر کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جامعۃ الازہر کہا کہ
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ