Jasarat News:
2026-07-24@15:27:25 GMT

ترسیلات زر میں جاری مالی سال میں 33 فیصد کی نمو

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر 33 فیصد اور دسمبر ماہانہ بنیادوں پر 6 فیصد کی نمو ریکارڈکی گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کر دہ اعدادوشمار کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں سمندر پار پاکستانیوں نے 17.846 ارب ڈالر زرمبادلہ ملک ارسال کیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کیمقابلہ میں 33 فیصد زیادہ ہے۔گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا حجم 13.

435 ارب ڈالر ریکارڈکیاگیا تھا۔ دسمبر میں سمندر پار پاکستانیوں نے 3.079 ارب ڈالر زرمبادلہ ملک ارسال کیا جو دسمبر 2023 کے مقابلہ میں 29 فیصد زیادہ ہے۔دسمبر 2023 میں سمندر پارپاکستانیوں نے 2.382 ارب ڈالر زرمبادلہ ملک ارسال کیاتھا۔نومبر کے مقابلہ میں دسمبر میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں ماہانہ بنیادوں پر 6 فیصد کی نمو ریکارڈکی گئی ہے۔نومبر میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا حجم 2.915 ارب ڈلر ریکارڈکیاگیا جو دسمبرمیں بڑھ کر 3.079 ارب ڈالر ہو گیا۔ جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں سعودی عر ب سے ترسیلات زر کاحجم 4.424 ارب ڈالر، یو اے ای 3.584 ارب ڈالر، برطانیہ 2.639 ارب ڈالر یورپی یونین ممالک 2.135 ارب ڈالر اور امریکا سے ترسیلات زر کا حجم 1.774 ارب ڈالر ریکارڈکیاگیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جاری مالی سال ارب ڈالر سال کی

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے قرضوں پر مارک اپ کی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی