ٹرمپ صدارت سنبھالتے ہی 100 ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں، ریپبلکن سینیٹر کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
اس بات کا انکشاف ایک ریپبلکن سینیٹر مارک وین مولن نے گزشتہ روز میڈیا کے سامنے کیا، انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ صدارت سنبھالتے ہی 100 ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے گزشتہ رات واشنگٹن میں ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ خصوصی ملاقات کے دوران امیگریشن اور توانائی سمیت دیگر مسائل پر کارروائی کے منصوبے کے حوالے سے گفتگو کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن سینیٹرز سے ملاقات کے بعد فوری طور پر ایگزیکٹو آرڈز کے اجراء کے حوالے سے مشاورت کی جارہی ہے۔
اس حوالے سے امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی سرحد پر سخت سیکیورٹی اور امیگریشن قوانین ڈونلڈ ٹرمپ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ س بات کا پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ حالیہ صدر جوبائیڈن کی مدت صدارت کے آخری ایام میں کیے گئے تمام اقدامات بھی واپس لے لیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کیخلاف تحقیقات کرنے والے محکمہ انصاف کے اسپیشل قونصل جیک اسمتھ مستعفی ہوگئے ہیں، ٹرمپ کی الیکشن میں جیت کے بعد جیک اسمتھ نے الزامات واپس لے لیے تھے۔
امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میں حلف اٹھاتے ہی کیپٹل ہل پر حملہ کرنیوالے تمام ملزمان کو معاف کردوں گا۔
تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن افغانستان، روس، شام کے بحرانوں سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں، ہم اب ایسی دنیا میں جارہے ہیں جو جل رہی ہے۔
واضح رہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر 20 جنوری 2025 کو یو ایس کیپیٹل کمپلیکس میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، یہ امریکی تاریخ کا 60 واں صدارتی حلف ہوگا۔ اس تقریب کے دوران نومنتخب صدر خصوصی خطاب بھی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ٹرمپ کی تھا کہ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔