چیمپئنز ٹرافی شووع ہونے سے پہلے ہی بنگلہ دیش کی مشکلات میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی سے قبل بڑا دھچکا پہنچا ہے، اس کے اسٹار آل راؤنڈر شکیب الحسن بولنگ ٹیسٹ پاس کرنے میں ایک بار پھر ناکام ہوگئے۔
شکیب الحسن پر انٹرنیشنل کرکٹ میں بولنگ پر عائد پابندی برقرار رہےگی، شکیب الحسن نے 21 دسمبر کو چنئی میں اپنا دوسرا بولنگ ٹیسٹ دیا تھا۔
اس سے قبل انگلینڈ کے لفبورویونیورسٹی میں بھی دیے گئے بولنگ ٹیسٹ میں بھی شکیب الحسن ناکام رہے تھے جبکہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے شکیب الحسن کے ٹیسٹ میں فیل ہونےکی تصدیق کردی ہے۔
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہےکہ شکیب الحسن ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ میں بطور بیٹر کھیلنے کے اہل رہیں گے۔
بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق بولنگ ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد چیمپئنز ٹرافی کے لیے شکیب الحسن کی اسکواڈ میں شمولیت مشکل ہے۔ تمیم اقبال کی ریٹائرمنٹ کے بعد بنگلا دیش کا دونوں سینئر کھلاڑیوں کے بغیر چیمپئنز ٹرافی کا اسکواڈ تیار کرنے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق تیسرے بولنگ ٹیسٹ میں کامیابی کی صورت میں شکیب کی اسکواڈ میں شمولیت ممکن ہوسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیمپئنز ٹرافی شکیب الحسن بولنگ ٹیسٹ بنگلا دیش ٹیسٹ میں
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔