سوئی سدرن کی نااہلی، گیس پائپ لائن بچھانے میں تاخیر،9؍ارب کا جھٹکا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ انتظامیہ کی نااہلی، گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے میں تاخیر، منصوبے کی لاگت 5 ارب سے تجاوز کر کے 14 ارب روپے ہو گئی۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اوگرا نے 4 مارچ 2017 کو سندھ یونیورسٹی سے پاک لینڈ تک 30ڈایامیٹر کی 125 کلومیٹر پائپ لائن کی منظوری دی، منصوبہ 5 ؍ ارب ایک کروڑ 4 لاکھ روپے میں مکمل کرنے کی منظوری دی گئی، منصوبے سے 247ایم ایم سی ایف ڈی حاصل ہوگی، پائپ لائن بچھانے کی شروعات فروری 2017میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کام دسمبر 2018میں مکمل کرنے کی منظوری دی گئی، ایس ایس جی سی ایل انتظامیہ 6 سال گزرنے کے باوجود پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ مکمل نہیں کر سکی جس کے باعث منصوبے کی لاگت 14ارب روپے ہو گئی ہے اور منصوبے کی لاگت میں 8ارب 98کروڑ روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کی انتظامیہ کو ستمبر 2023میں منصوبے میں تاخیر کے حوالے سے آگاہ کیا گیا جس پر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ حکومت سندھ کی جانب سے رائیٹ آف وے کی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث منصوبے میں تاخیر ہوئی۔ جنوری 2024 میں ڈیپارٹمنٹل ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں ایس ایس جی سی ایل انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ منصوبے میں تاخیر کے اسباب سے آگاہ کیا جائے اور منصوبہ مکمل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں لیکن ڈی اے سی کے ہدایات کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں کی گئی، جس کے بعد اعلیٰ حکام نے ذمہ دار ایس ایس جی سی ایل افسران کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: منصوبے میں تاخیر
پڑھیں:
بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
کوئٹہ:پی ڈی ایم اے نے بلوچستان میں مون سون کے دوران جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کردی، دوماہ کے دوران بارشوں کے باعث چار بچوں سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے مرد اور خاتون جان کی بازی ہارگئے، خضدار میں آسمانی بجلی اور چھت گرنے سے بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے تین بچوں سمیت چار افراد لقمہ اجل بن گئے، چھتیں گرنے سے 13 بچوں اور دو خواتین سمیت 16افراد زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 41 گھروں کو نقصان پہنچا ان میں خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17گھر مکمل تباہ ہوگئے ہوگئے جب کہ 24 کو جزوی نقصان پہنچا۔