مردان کے اسپتال میں خاتون مریضہ کے ساتھ جنسی زیادتی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
مشیر صحت نے واقعے پر فوری کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ناقابل قبول ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ مردان میڈیکل کمپلیکس میں خاتون مریضہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے افسوسناک واقعے پر مشیر صحت نے فوری نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ واقعہ کے بعد اسپتال کے دو کلاس فور اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے واقعے پر باضابطہ سرکاری اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس عمل کو "ذاتی فعل" قرار دیا اور کہا کہ اسے پورے ادارے کے ساتھ منسلک کرنا غیر مناسب ہے۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسپتال میں سینکڑوں خواتین اہلکار مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کررہی ہیں اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مشیر صحت نے واقعے پر فوری کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ناقابل قبول ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: واقعے پر
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔