Jasarat News:
2026-06-03@02:38:13 GMT

قوم کو سچ بتائیں

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251029-03-7

 

 

 

مظفر اعجاز

دنیا بھر میں حکمران اپنی قوم کو حقائق سے باخبر نہیں رکھتے، ہمیشہ حقائق کے برخلاف باتیں کرتے ہیں، اور زیادہ تر یہ کام وہ حکمران کرتے ہیں جو جنگوں میں مصروف ہوتے ہیں یا کسی کے لیے جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں اور دنیا میں کسی قوم کو اس کے حکمرانوں نے سب سے زیادہ اندھیرے میں رکھا ہے تو وہ پاکستانی قوم ہے، اسے ابتدا سے حقائق سے دور رکھا گیا۔ پاکستان کے قیام سے لے کر ایوب خان کے مارشل لا تک، اس کے بعد سے آج تک سرکار جو بتاتی ہے وہ کچھ عرصے بعد غلط ثابت ہوتا ہے۔ گزشتہ چالیس برس سے تو پاکستان ایک ایسی جنگ میں الجھا ہوا ہے، جو نہ اس نے چھیڑی ہے نہ وہ ختم کرسکتا ہے پہلے بیس سال سوویت یونین کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں مزاحمت کے ہیں، اس دور میں قوم کو یہ بتایا گیا کہ افغان مجاہدین پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں، جب سوویت یونین افغانستان سے نکل گیا تو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اچھے ہوگئے، لیکن کچھ ہی عرصے میں وہاں حکومت بدل گئی اور دونوں ملکوں میں کشیدگی شروع ہوگئی۔ یہ کشیدگی اس وقت دوسرا رُخ اختیار کرگئی جب پاکستان کی بھرپور مدد سے امریکیوں کو افغانستان میں داخل کیا گیا۔ اس کے بعد سے لا محالہ پاک افغان تعلقات خراب ہی ہونے تھے۔ لیکن بیس برس کی جنگ میں پاکستان کی مختلف فوجی قیادتوں نے طالبان، تحریک طالبان پاکستان، اور دوسرے گروہوں کی حمایت اور مدد کی کہ امریکا کو بھی وہاں سے نکل بھاگنا پڑا، اس کے فوراً بعد پاک افغان تعلقات بہتر ہونے لگے لیکن کسی غیر مرئی قوت نے پاکستان کو اپنے پڑوسی ملک میں سفارت خانہ کھولنے یا افغانستان کی آزاد حکومت کو تسلیم کرنے سے روک دیا۔ یہ وہی آزاد حکومت تھی جس کی قیادت سے مذاکرات کو عنوان ہی ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ اور امریکا کے مابین مذاکرات تھا، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا جس گروہ اور جن لوگوں سے مذاکرات کرکے افغانستان سے نکلا تھا ان کے ساتھ معاہدہ کرکے انہیں سند جواز بخشی تھی ان سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی آزاد ملکوں کو بھی اجازت نہیں دی گئی۔ اور یہیں سے تعلقات میں کشیدگی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ اس مختصر جائزے کے بعد یہ معلوم کرنا تو مشکل نہیں رہا کہ پاک افغان کشیدگی کا مرکز کابل یا اسلام آباد نہیں کہیں اور ہے، زیادہ قرین حقائق تو واشنگٹن ہی ہے لیکن عالمی سیاست میں ایسے تنازعات میں ایک سے زیادہ کھلاڑی اور کئی مہرے مصروف عمل ہوتے ہیں۔ لہٰذا چین اور بھارت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اور کچھ اشارے بھی ان کو نظر انداز نہ کرنے کو یقینی بنارہے ہیں۔

اب اسے اس تناظر میں دیکھتے ہیں کہ قوم کو بتایا گیا کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغان مہاجرین کی پہلی آمد کے ساتھ منشیات اور کلاشنکوف کلچر آیا، پھر جنرل مشرف کے دور میں بتایا گیا کہ افغانستان سے دہشت گردی آئی، طالبان دہشت گردی کرتے ہیں، پھر کہا گیا کہ طالبان تو ٹھیک ہیں ٹی ٹی پی والے دہشت گردی کرتے ہیں، اسی دوران گڈ طالبان بیڈ طالبان کی اصطلاحات سامنے آئیں، لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ طالبان کس نے بنائے، ٹی ٹی پی کس نے بنائی، گڈ طالبان بیڈ طالبان کس نے وضع کیے، پنجابی طالبان اور طالبان جنوبی ایشیا تک ایجاد ہوگئے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے دو حوالے کافی ہیں، ایک برطانوی صحافی ایوون ریڈلی، جب وہ پاکستان آئیں تو ان سے سوال کیا گیا کہ طالبان تو دہشت گرد ہیں اور آپ ان کی تعریف کرتی ہیں تو ریڈلی نے کہا کہ میرا طالبان کے ساتھ جو تجربہ تھا میں اس کی روشنی میں اپنی رائے دینے کا حق رکھتی ہوں، لیکن جب دنیا میں کوئی برانڈ مشہور ہوجائے تو اس نام سے بہت سی چیزیں مارکیٹ میں آجاتی ہیں، تو میں اصل (اوریجنل) کی بات کررہی ہوں اور آپ اس کی نقل میں بننے والی چیز کی۔ اسی طرح دوسرا حوالہ سابق امریکی سفارت کار کا سی این این کو جواب تھا کہ امریکا دنیا میں ہر جگہ جنگ جیتی ہے لیکن افغانستان میں کیوں ہار رہا ہے تو اس نے جواب دیا تھا، ’’ایک لفظ‘‘ میرا جواب بس ایک لفظ ہے اور وہ ہے ’’پاکستان‘‘ ہماری شکست کی ایک ہی وجہ ہے وہ پاکستان ہے، پھر اس کو امریکی جنرل کے اس الزام سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ’’ہمارا خیال ہے کہ دونوں جانب سے پاکستان ہی کھیل رہا ہے، تو بھائی ایسے کھیلوں میں اور اس طرح کھیلنے کے بارے ہی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ ایسے خطرناک کھیلوں میں کسی بھی جانب تباہی ہوسکتی ہے، اس لیے ساری ذمے داری طالبان، افغانستان اور بھارت پر نہیں ڈالی جاسکتی، کچھ اپنی جانب بھی نظر کرم کرلیں۔ اس تناظر میں پاکستانی وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے بیانات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 2018ء میں دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا لیکن بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے‘ سیکورٹی ادارے ہر روز امن کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم یہ بتاسکتے ہیں کہ 2018 میں جس دہشت گردی کو ’’مکمل‘‘ طور پر ختم کردیا گیا تھا وہ بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں کیوں سر اٹھا رہی ہے، جس کے ذمے سیکورٹی ہے اس نے کہاں غفلت برتی ہے، اور حکومت غلطی کا تعین کیے بغیر آگے کیسے بڑھ سکتی ہے۔ اگر ایک بار پھر یہ جملہ کوئی اور نہ دہرائے کہ ’’دہشت گردی تو ختم کردی تھی وہ پھر سر اٹھا رہی ہے‘‘۔ حالانکہ سر تو سب سے پہلے کچلا جاتا ہے، پھر یہ کچلا ہوا سر کیسے اٹھ رہا ہے، کچلنے والوں سے کچھ نہیں پوچھا؟؟ اس راز سے کوئی پردہ اٹھائے تو غدار قرار پاتا ہے اس لیے حکومت کی ذمے داری ہے کہ عوام کو حقائق بتائے۔

شاید اسی لیے وزیر اعظم بلوچستان ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے، اور بلوچوں اور صوبے کی تعریفیں کیں اور کہا کہ ’’اللہ نے بلوچستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے لیکن افسوس کہ بلوچستان کی دولت اب بھی زمین کے اندر دفن ہے‘‘۔ یہاں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مدفون دولت کا کیا سودا کیا جارہا ہے اور کن شرائط پر کیا جارہا ہے۔ سچ بتائیں گے تو قوم ساتھ دے گی ورنہ دوسری قوتیں در آئیں گی۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں بلوچستان کو نظر انداز کرنا خود احتسابی کا لمحہ ہے، پھر انہیں یاد آیا کہ کچھ کرنا بھی تو چاہیے، چنانچہ دل کشادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دور دراز آبادیوں تک بجلی اور سڑکوں کی فراہمی بڑا مسئلہ ہے، مضبوط سڑکوں کے نیٹ ورک کے بغیر تعلیم و صنعت کی ترقی ممکن نہیں، یہاں پھر سوال ہونا چاہیے کہ یہ سڑکوں کا نیٹ ورک کیوں نہیں بنا جو تعلیم و صنعت کو فروغ دیتا ہے، یادش بخیر پیپلز پارٹی کی وزیر اعظم بے نظیر نے بھی تو بلوچستان پر خصوصی مہربانی کی تھی، ملک بننے کے ساٹھ سال بعد ’’آغاز حقوق بلوچستان پیکیج‘‘ شروع کیا تھا، یہ کون بتائے گا کہ اس پیکیج میں کیا تھا، بلوچستان کے عوام کو کیا ملا اور ساٹھ سال تک حقوق کا آغاز بھی نہ کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔ اسی قسم کی باتیں وزیر دفاع صاحب فرما رہے ہیں، خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان بھارتی پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں‘ معاملات طے نہیں پاتے تو ہماری کھلی جنگ ہے۔

افغانوں پر احسان رکھتے ہوئے کہا کہ 3 افغان نسلیں یہاں جوان ہوئیں اب ان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دہشت گردی کو سپورٹ کریں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ روز سے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، ہر دوسرے دن دہشت گردی کے واقعے میں ہمارے جوان اور شہری شہید ہوتے ہیں، شہدا کی وجہ سے ہماری سرحدیں محفوظ ہیں، ہماری فورسز سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ بھارت کے خلاف ہماری فوج نے حال ہی میں دلیرانہ جنگ لڑی۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ میں پاک افغان معاہدے میں معاملات طے نہیں پاتے تو ہماری افغانستان کے ساتھ کھلی جنگ ہے۔ 40 سال ہم نے افغانوں کی مہمان نوازی کی، اب بھی 40 لاکھ کے قریب افغان شہری یہاں موجود ہیں۔ قبائلی علاقوں میں بہادر لوگ رہتے ہیں جو ملکی سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں۔

خواجہ صاحب بتائیں کہ ہر کچھ برس بعد دہشت گردی کیوں ہونے لگتی ہے جس کو آپ یا کوئی حکمران جڑ سے اکھاڑ چکا ہوتا ہے، دہشت گردوں کی کمر توڑی جاچکی ہوتی ہے، اس کے باوجود ٹوٹی کمر والے دہشت گرد، جڑ سے اکھاڑی جانے والی دہشت گردی، یہ سب زندہ ہوجاتے ہیں اور سارا قصور دوسروں کا ہوتا ہے، اگر یہ سب ہو بھی رہا ہے تو اپنی غلطیوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، اپنے ملک میں لوگوں کو جوڑ کر رکھنا تو حکومت کی ذمہ داری ہے، بیرونی ہاتھ تو اندرونی ہاتھ کے بغیر کام نہیں کرسکتا، اندرونی ہاتھ کو خود سنبھالیں بیرونی ہاتھ خود غیر موثر ہوجائے گا۔ غیرملکی ہاتھ، اور دشمن کی سازش کہہ کر جان چھڑانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مسائل حل کرنے ہیں تو قوم کو سچ بتائیں۔

 

مظفر اعجاز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علاقوں میں پاک افغان نے کہا کہ کرتے ہیں ہوتے ہیں ہوتا ہے کے ساتھ ہیں اور رہے ہیں قوم کو رہا ہے گیا کہ

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی