data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251029-03-7
مظفر اعجاز
دنیا بھر میں حکمران اپنی قوم کو حقائق سے باخبر نہیں رکھتے، ہمیشہ حقائق کے برخلاف باتیں کرتے ہیں، اور زیادہ تر یہ کام وہ حکمران کرتے ہیں جو جنگوں میں مصروف ہوتے ہیں یا کسی کے لیے جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں اور دنیا میں کسی قوم کو اس کے حکمرانوں نے سب سے زیادہ اندھیرے میں رکھا ہے تو وہ پاکستانی قوم ہے، اسے ابتدا سے حقائق سے دور رکھا گیا۔ پاکستان کے قیام سے لے کر ایوب خان کے مارشل لا تک، اس کے بعد سے آج تک سرکار جو بتاتی ہے وہ کچھ عرصے بعد غلط ثابت ہوتا ہے۔ گزشتہ چالیس برس سے تو پاکستان ایک ایسی جنگ میں الجھا ہوا ہے، جو نہ اس نے چھیڑی ہے نہ وہ ختم کرسکتا ہے پہلے بیس سال سوویت یونین کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں مزاحمت کے ہیں، اس دور میں قوم کو یہ بتایا گیا کہ افغان مجاہدین پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں، جب سوویت یونین افغانستان سے نکل گیا تو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اچھے ہوگئے، لیکن کچھ ہی عرصے میں وہاں حکومت بدل گئی اور دونوں ملکوں میں کشیدگی شروع ہوگئی۔ یہ کشیدگی اس وقت دوسرا رُخ اختیار کرگئی جب پاکستان کی بھرپور مدد سے امریکیوں کو افغانستان میں داخل کیا گیا۔ اس کے بعد سے لا محالہ پاک افغان تعلقات خراب ہی ہونے تھے۔ لیکن بیس برس کی جنگ میں پاکستان کی مختلف فوجی قیادتوں نے طالبان، تحریک طالبان پاکستان، اور دوسرے گروہوں کی حمایت اور مدد کی کہ امریکا کو بھی وہاں سے نکل بھاگنا پڑا، اس کے فوراً بعد پاک افغان تعلقات بہتر ہونے لگے لیکن کسی غیر مرئی قوت نے پاکستان کو اپنے پڑوسی ملک میں سفارت خانہ کھولنے یا افغانستان کی آزاد حکومت کو تسلیم کرنے سے روک دیا۔ یہ وہی آزاد حکومت تھی جس کی قیادت سے مذاکرات کو عنوان ہی ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ اور امریکا کے مابین مذاکرات تھا، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا جس گروہ اور جن لوگوں سے مذاکرات کرکے افغانستان سے نکلا تھا ان کے ساتھ معاہدہ کرکے انہیں سند جواز بخشی تھی ان سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی آزاد ملکوں کو بھی اجازت نہیں دی گئی۔ اور یہیں سے تعلقات میں کشیدگی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ اس مختصر جائزے کے بعد یہ معلوم کرنا تو مشکل نہیں رہا کہ پاک افغان کشیدگی کا مرکز کابل یا اسلام آباد نہیں کہیں اور ہے، زیادہ قرین حقائق تو واشنگٹن ہی ہے لیکن عالمی سیاست میں ایسے تنازعات میں ایک سے زیادہ کھلاڑی اور کئی مہرے مصروف عمل ہوتے ہیں۔ لہٰذا چین اور بھارت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اور کچھ اشارے بھی ان کو نظر انداز نہ کرنے کو یقینی بنارہے ہیں۔
اب اسے اس تناظر میں دیکھتے ہیں کہ قوم کو بتایا گیا کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغان مہاجرین کی پہلی آمد کے ساتھ منشیات اور کلاشنکوف کلچر آیا، پھر جنرل مشرف کے دور میں بتایا گیا کہ افغانستان سے دہشت گردی آئی، طالبان دہشت گردی کرتے ہیں، پھر کہا گیا کہ طالبان تو ٹھیک ہیں ٹی ٹی پی والے دہشت گردی کرتے ہیں، اسی دوران گڈ طالبان بیڈ طالبان کی اصطلاحات سامنے آئیں، لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ طالبان کس نے بنائے، ٹی ٹی پی کس نے بنائی، گڈ طالبان بیڈ طالبان کس نے وضع کیے، پنجابی طالبان اور طالبان جنوبی ایشیا تک ایجاد ہوگئے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے دو حوالے کافی ہیں، ایک برطانوی صحافی ایوون ریڈلی، جب وہ پاکستان آئیں تو ان سے سوال کیا گیا کہ طالبان تو دہشت گرد ہیں اور آپ ان کی تعریف کرتی ہیں تو ریڈلی نے کہا کہ میرا طالبان کے ساتھ جو تجربہ تھا میں اس کی روشنی میں اپنی رائے دینے کا حق رکھتی ہوں، لیکن جب دنیا میں کوئی برانڈ مشہور ہوجائے تو اس نام سے بہت سی چیزیں مارکیٹ میں آجاتی ہیں، تو میں اصل (اوریجنل) کی بات کررہی ہوں اور آپ اس کی نقل میں بننے والی چیز کی۔ اسی طرح دوسرا حوالہ سابق امریکی سفارت کار کا سی این این کو جواب تھا کہ امریکا دنیا میں ہر جگہ جنگ جیتی ہے لیکن افغانستان میں کیوں ہار رہا ہے تو اس نے جواب دیا تھا، ’’ایک لفظ‘‘ میرا جواب بس ایک لفظ ہے اور وہ ہے ’’پاکستان‘‘ ہماری شکست کی ایک ہی وجہ ہے وہ پاکستان ہے، پھر اس کو امریکی جنرل کے اس الزام سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ’’ہمارا خیال ہے کہ دونوں جانب سے پاکستان ہی کھیل رہا ہے، تو بھائی ایسے کھیلوں میں اور اس طرح کھیلنے کے بارے ہی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ ایسے خطرناک کھیلوں میں کسی بھی جانب تباہی ہوسکتی ہے، اس لیے ساری ذمے داری طالبان، افغانستان اور بھارت پر نہیں ڈالی جاسکتی، کچھ اپنی جانب بھی نظر کرم کرلیں۔ اس تناظر میں پاکستانی وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے بیانات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 2018ء میں دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا لیکن بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے‘ سیکورٹی ادارے ہر روز امن کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم یہ بتاسکتے ہیں کہ 2018 میں جس دہشت گردی کو ’’مکمل‘‘ طور پر ختم کردیا گیا تھا وہ بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں کیوں سر اٹھا رہی ہے، جس کے ذمے سیکورٹی ہے اس نے کہاں غفلت برتی ہے، اور حکومت غلطی کا تعین کیے بغیر آگے کیسے بڑھ سکتی ہے۔ اگر ایک بار پھر یہ جملہ کوئی اور نہ دہرائے کہ ’’دہشت گردی تو ختم کردی تھی وہ پھر سر اٹھا رہی ہے‘‘۔ حالانکہ سر تو سب سے پہلے کچلا جاتا ہے، پھر یہ کچلا ہوا سر کیسے اٹھ رہا ہے، کچلنے والوں سے کچھ نہیں پوچھا؟؟ اس راز سے کوئی پردہ اٹھائے تو غدار قرار پاتا ہے اس لیے حکومت کی ذمے داری ہے کہ عوام کو حقائق بتائے۔
شاید اسی لیے وزیر اعظم بلوچستان ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے، اور بلوچوں اور صوبے کی تعریفیں کیں اور کہا کہ ’’اللہ نے بلوچستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے لیکن افسوس کہ بلوچستان کی دولت اب بھی زمین کے اندر دفن ہے‘‘۔ یہاں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مدفون دولت کا کیا سودا کیا جارہا ہے اور کن شرائط پر کیا جارہا ہے۔ سچ بتائیں گے تو قوم ساتھ دے گی ورنہ دوسری قوتیں در آئیں گی۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں بلوچستان کو نظر انداز کرنا خود احتسابی کا لمحہ ہے، پھر انہیں یاد آیا کہ کچھ کرنا بھی تو چاہیے، چنانچہ دل کشادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دور دراز آبادیوں تک بجلی اور سڑکوں کی فراہمی بڑا مسئلہ ہے، مضبوط سڑکوں کے نیٹ ورک کے بغیر تعلیم و صنعت کی ترقی ممکن نہیں، یہاں پھر سوال ہونا چاہیے کہ یہ سڑکوں کا نیٹ ورک کیوں نہیں بنا جو تعلیم و صنعت کو فروغ دیتا ہے، یادش بخیر پیپلز پارٹی کی وزیر اعظم بے نظیر نے بھی تو بلوچستان پر خصوصی مہربانی کی تھی، ملک بننے کے ساٹھ سال بعد ’’آغاز حقوق بلوچستان پیکیج‘‘ شروع کیا تھا، یہ کون بتائے گا کہ اس پیکیج میں کیا تھا، بلوچستان کے عوام کو کیا ملا اور ساٹھ سال تک حقوق کا آغاز بھی نہ کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔ اسی قسم کی باتیں وزیر دفاع صاحب فرما رہے ہیں، خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان بھارتی پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں‘ معاملات طے نہیں پاتے تو ہماری کھلی جنگ ہے۔
افغانوں پر احسان رکھتے ہوئے کہا کہ 3 افغان نسلیں یہاں جوان ہوئیں اب ان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دہشت گردی کو سپورٹ کریں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ روز سے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، ہر دوسرے دن دہشت گردی کے واقعے میں ہمارے جوان اور شہری شہید ہوتے ہیں، شہدا کی وجہ سے ہماری سرحدیں محفوظ ہیں، ہماری فورسز سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ بھارت کے خلاف ہماری فوج نے حال ہی میں دلیرانہ جنگ لڑی۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ میں پاک افغان معاہدے میں معاملات طے نہیں پاتے تو ہماری افغانستان کے ساتھ کھلی جنگ ہے۔ 40 سال ہم نے افغانوں کی مہمان نوازی کی، اب بھی 40 لاکھ کے قریب افغان شہری یہاں موجود ہیں۔ قبائلی علاقوں میں بہادر لوگ رہتے ہیں جو ملکی سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں۔
خواجہ صاحب بتائیں کہ ہر کچھ برس بعد دہشت گردی کیوں ہونے لگتی ہے جس کو آپ یا کوئی حکمران جڑ سے اکھاڑ چکا ہوتا ہے، دہشت گردوں کی کمر توڑی جاچکی ہوتی ہے، اس کے باوجود ٹوٹی کمر والے دہشت گرد، جڑ سے اکھاڑی جانے والی دہشت گردی، یہ سب زندہ ہوجاتے ہیں اور سارا قصور دوسروں کا ہوتا ہے، اگر یہ سب ہو بھی رہا ہے تو اپنی غلطیوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، اپنے ملک میں لوگوں کو جوڑ کر رکھنا تو حکومت کی ذمہ داری ہے، بیرونی ہاتھ تو اندرونی ہاتھ کے بغیر کام نہیں کرسکتا، اندرونی ہاتھ کو خود سنبھالیں بیرونی ہاتھ خود غیر موثر ہوجائے گا۔ غیرملکی ہاتھ، اور دشمن کی سازش کہہ کر جان چھڑانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مسائل حل کرنے ہیں تو قوم کو سچ بتائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقوں میں پاک افغان نے کہا کہ کرتے ہیں ہوتے ہیں ہوتا ہے کے ساتھ ہیں اور رہے ہیں قوم کو رہا ہے گیا کہ
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم