مذاکرات میں پاکستان کا واضح پیغام: افغان طالبان دہشت گردی کی سرپرستی بند کریں
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
اسلام آباد/استنبول (صغیر چوہدری) — استنبول میں ہونے والی اہم اور حساس مذاکراتی نشست میں پاکستان نے افغان طالبان کو ایک دو ٹوک اور غیر معمولی واضح مطالبہ پیش کیا ہے: افغان سرزمین سے کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ کارروائی، محفوظ ٹھکانوں یا ان کی عملی سرپرستی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے کہا کہ محض یقین دہانیوں کا دور ختم ہو چکا ہے — اب عملی، قابلِ پیمائش اور ثبوت پر مبنی اقدامات درکار ہیں تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کا قلع قمع ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستانی حکام نے افغان طالبان کے مذاکراتی دلائل کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض دلائل ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے کوئی پوشیدہ یا متوازی ایجنڈا چلایا جا رہا ہو، جو نہ تو افغانستان کے اور نہ ہی پاکستان و خطے کے مفاد میں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر طالبان نے اپنی پالیسیوں میں حقیقی تبدیلی نہ دکھائی تو مذاکرات کے مثبت نتائج باہر رہ جائیں گے اور خطے میں عدم استحکام کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ آئندہ مذاکرات کی سمت اور رفتار مکمل طور پر طالبان کے سنجیدہ اور نتیجہ خیز رویے پر منحصر ہوگی۔
مزید یہ کہ پاکستان نے بارہا اپنے موقف کو دہرایا کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کسی بھی شکل میں برداشت نہیں کی جائے گی اور ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر جوابی اقدامات کا حق اپنے پاس محفوظ رکھا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔