بھارت کو پاکستان کیخلاف افغان طالبان رجیم کی حمایت مہنگی پڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
خطے میں عدم استحکام کیلئے افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی حمایت پر بھارت کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
افغانستان کی مسلح تنظیم نیشنل موبلائزیشن فرنٹنیبھارت کو قاتل طالبان کی حمایت پر سخت انتباہ جاری کردیا
خطے میں عدم استحکام کے لیے افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی حمایت پر بھارت کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بھارت کو سرحد پار دہشت گردی اور طالبان نواز پالیسیوں پر ہزیمت کا سامنا، افغانستان کی مسلح تنظیم نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے بھارت کو طالبان کی حمایت پر سخت انتباہ جاری کر دیا۔افغانستان کی نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے کہا کہ ہندوستان کو دوسری بار متنبہ کیا جاتا ہے کہ افغانستان میں طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی حمایت بند کرے۔این ایم ایف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں معصوم لوگوں کے قاتل طالبان کی حمایت ہندوستان کے دوغلے رویہ کو ظاہر کرتی ہے، دنیا میں جمہوریت کا دعویدار بھارت دہشت گردوں کو سہارا دے رہا ہے اور کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنا طالبان کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔مسلح تنظیم نے سوال اٹھایا کہ کیا ہندوستان طالبان کے جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ہی ملک میں انتشار پھیلانے کا سبب بننا چاہتا ہے؟ اگر بھارت حمایت جاری رکھے گا تو طالبان افغانستان کے ساتھ ہندوستان کو بھی اپنے ہدف میں شامل کریں گے، افغان آزادی پسند تحریکیں ہندوستان میں خالصتان کی تحریک سے بھی مکمل تعاون بحال کریں گی۔این ایم ایف کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی طالبان سے حمایت ان تحریکوں کے اتحاد کا باعث بنے گی۔ بھارت فوری طور پر طالبان، داعش اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں سے اپنے تعلقات منقطع کرے، اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو آنے والے تمام منفی نتائج کی ذمہ داری ہندوستان پر عائد ہوگی۔انتہا پسند بھارتی حکومت پورے خطے میں عدم استحکام اور دہشتگردی پھیلانے میں مصروف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: افغانستان میں کی حمایت پر بھارت کو
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔