سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
کراچی : سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے انتخابات میں نومنتخب صدر ،اولمپئن قمر ابراہیم ،ذوالفقار حسین ،اسلم نیازی ودیگر کا گروپ فوٹو
کراچی (اسپورٹس رپورٹر) پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر طارق حسین بگٹی اور سیکرٹری جنرل اولمپین رانا مجاہد علی خاں نے سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دی ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر طارق حسین بگٹی اور سیکرٹری جنرل اولمپین رانا مجاہد علی خاں نے سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا امید ہے کہ نو منتخب عہدیداران اپنے صلاحیتوں سے سندھ میں قومی کھیل کی ترقی و ترویج میں اپنا کرداراداکریںگے۔ قبل ازیں عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم کراچی میں ممبران اسکروٹنی کمیٹی خرم نقوی ،سید احسان علی ، زاہد الاسلام اور محمد جاوید خان کی زیر نگرانی سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے الیکشن منعقد ہوئے جس میں احسان جتوئی صدر، اولمپین قمر ابراہیم، زوالفقار حسین ڈاھوٹ اور اسلم خان نیازی وائس پریزیڈنٹ ، رمضان جمالی سیکرٹری ، آصف احمد خان ایسوسی ایٹ سیکرٹری ، اعجاز احمد کھوکھر جوائنٹ سیکرٹری ،فاروق خان خزانچی جبکہ کوآرڈینیٹر اولمپئنکامران اشرف منتخب ہوئے جبکہ ممبران جنرل کونسل کیلئے وکیل الدین،طاہر حبیب ،سید ابوزر امراؤ ،عبدالرسول جانوری ، غلام حسین لغاری، عظمت پاشا، ڈاکٹر شبیر اور مسز نسیم حفیظ کو منتخب کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔