سوئی سدرن، جعلی سند پر افسر کی بھرتی کروڑوں کی ادائیگی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ میں پیپلز پارٹی نے سال 2008میں جعلی سند پر افسر بھرتی کر دیا، تنخواہ کی مد میں کروڑوں روپے ادائیگی کر دی گئی، اعلیٰ حکام نے انکوائری کرنے کی سفارش کر دی۔ جرأت کے رپورٹ کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ میں 19فروری 2008 کو ڈیپوٹیشن کے بنیاد پر 2 سال کے لئے پارکو سے ایک افسر کو تعینات کیا گیا، ایس ایس جی سی ایل میں گریڈ 4کے سیکریٹری کے طور پر تعیناتی کی گئی، بعد میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے دوران ایس ایس جی سی ایل انتظامیہ نے افسر کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کروائی جس پر انکشاف ہوا افسر کی میٹرک کی ڈگری میں ٹیمپرنگ کی گئی ہے ، 25 جنوری 2019 کو افسر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور 21دسمبر 2022 کو افسر کو نوکری سے برطرف کیا گیا، ایس ایس جی سی ایل نے 14 سال کے دوران افسر کو تنخواہ اور دیگر مالی مراعات کی مد میں 3کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کئے ، ڈیپارٹمنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس جنوری 2024 میں منعقد ہوا، اجلاس کے دوران انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ خلاف ضابطہ کارروائی میں تاخیر پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی سفارش کی لیکن ایس ایس جی سی ایل انتظامیہ نے کوئی پیش رفت نہیں کی جس پر اعلیٰ حکام نے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری قائم کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایس ایس جی سی ایل افسر کو
پڑھیں:
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
کراچی:ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایک مسافر کمیل عباس کو مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر آف لوڈ کردیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق تفصیلی جانچ کے دوران مسافر کے پاسپورٹ پر مشتبہ جعلی مہریں پائی گئیں۔ مشتبہ مہروں کی تصدیق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS) کے ذریعے کی گئی، تاہم متعلقہ آمد و روانگی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے پر مہروں کے جعلی ہونے کا شبہ مزید مضبوط ہو گیا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے بیان دیا کہ اس نے اپنا پاسپورٹ اپنے دوست نعیم کے حوالے کیا تھا، جو اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر اسی شخص نے پاسپورٹ پر جعلی پاکستانی امیگریشن مہریں لگوائیں۔ مسافر نے مذکورہ شخص کے رابطہ نمبرز بھی فراہم کر دیے ہیں۔
مسافر کو پرواز سے آف لوڈ کر کے مقدمہ مزید قانونی کارروائی، جامع تحقیقات اور جعلی امیگریشن مہروں کے استعمال میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کے لیے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔